خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 477
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۷۷ خطبہ جمعہ ۳۰ / نومبر ۱۹۷۹ء اُمتِ واحدہ بنانے کا فیصلہ کیا۔اگر ہر شخص کو مثلاً ساری دنیا کی ہر شے سے مادی کائنات، مادی دنیا کی ہر شے سے خدمت لینے کی طاقت دے دی جاتی تو کسی دوسرے کی مدد کا ، اس کے بھائی چارے کا، تقسیم کا رکا وہ محتاج نہ ہوتا۔وہ کپڑے بھی اپنے بنا تا ، وہ غذا بھی اپنی پیدا کرتا ، وہ علم بھی خود اپنے طور پر حاصل کرتا کسی استاد کی اسے ضرورت نہ ہوتی کیونکہ یہ ساری چیزیں اس کے پاس خدا تعالیٰ (D) تقسیم کار نے رکھ دی ہوتیں۔ایسا نہیں کیا بلکہ ڈویژن آف لیبر (Division of Labour تمدن انسانی کی بنیاد بنادی گئی اور اس کے نتیجے میں انسان انسان کی طاقتوں اور استعدادوں میں جزوی اور تفصیلی فرق آگیا اور نوع انسانی کو بحیثیت نوع کائنات کی ہر شے سے خدمت لینے کی طاقت عطا کر دی گئی۔اللہ تعالیٰ نے جو قانونِ قدرت بنایا اور جو میزان قائم کیا اور جو اتنی طاقتیں انسان کو دیں دو پہلو ہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں کے۔ایک یہ قانون بنا دیا مثلاً گندم کا دانہ جب کھیت میں ڈالا جائے گا تو وہ اُگے گا۔فلق ہوگی اس کی۔پھٹے گا وہ ایک پودا بنے گا اور دانے بنائے گا۔وہ انسان کے لئے غذا پیدا کرے گا۔قانون بنادیا کہ شیشم کا درخت موسم خزاں میں پتے گرائے گا۔یہ اس کا قانون قدرت ہے۔شیشم کا درخت موسم خزاں میں پتے گرائے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔قانونِ قدرت نے اس کو باندھا ہے۔ایک اللہ تعالیٰ کی صفات کا یہ جلوہ ہے لیکن بعض نادان، نا سمجھ ، نیم پختہ عقل والے اس سے یہ نتیجہ نکال بیٹھے کہ اللہ تعالیٰ امپرسنل (Impersonal) اللہ ہے یعنی ذاتی طور پر تعلق نہیں رکھتا۔اس نے قانون بنایا اور اس کا حکم چل پڑا۔وہ کہتے ہیں انسان کی حیثیت ہی کیا ہے خدا تعالیٰ کے مقابلے میں۔یہ درست۔انسان کی کوئی حیثیت نہیں کہ اپنے طور پر اپنے زور سے خدا تعالیٰ سے ایک دھیلہ بھی وصول کر سکے لیکن اگر خدا دینا چاہے تو ہر دو جہاں انسان کے قدموں میں لا کے رکھ دیتا ہے۔اور یہ محض دعویٰ نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اور آپ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ نے اس قدر پیار کیا اور خدا تعالیٰ کے اس قدر پیار کو حاصل کیا کہ لَوْ لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاك ساری کائنات جو تھی وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کے رکھ دی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا خدائی تقدیر میں کہ نوع انسانی بھی