خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 469
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۶۹ خطبه جمعه ۲۳ / نومبر ۱۹۷۹ء زندگی کا مقصد انسانوں کے دل توحید باری اور عظمت رسول کے لئے جیتنا۔ہے خطبه جمعه فرموده ۲۳ نومبر ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آپ سب جانتے ہیں کہ گزشتہ چند روز میرے لئے بھی اور آپ کے لئے بھی انتہائی پریشانی اور کرب کے گزرے۔ایک ان ہو نا واقعہ ہو گیا۔فسادی مسجد حرام میں داخل ہوئے اور فساد کے حالات انہوں نے پیدا کئے۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے کہ حکومت وقت نے حالات پر قابو پالیا ہے۔الحمد للہ۔مگر یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں اور بیت اللہ خانہ کعبہ یا مسجد حرام کا تعلق صرف مناسک حج کے ساتھ نہیں ہے کہ عمر میں ایک بار ایک ایسا مسلمان مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (ال عمران : ۹۸) جو آسانی سے وہاں پہنچ سکتا ہو وہاں پہنچ کر حج کے مناسک بجالائے اور وہ لوگ جو اس زمرے میں نہیں آتے کہ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وہ اپنی اپنی نیت کے مطابق اپنے رب سے اپنی نیتوں کا اجر پاتے ہیں اور اپنے کرب کا اور اس دکھ کا کہ وہ نہیں جا سکے حج کے لئے ، زاد راہ نہیں تھی ، راستے کھلے نہیں تھے وغیرہ وغیرہ بہت ساری باتیں بیان ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی بے چینی کو دیکھ کر ان کی عظیم خواہش کو دیکھ کر جو پوری نہیں ہو رہی ، ہم امید رکھتے ہیں کہ ان کو بھی اجر دیتا ہے کیونکہ پیار کرنا اس کا کام ہے، بندہ کا کام تو حقیر سے نذرانے اس کے