خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 451
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۵۱ خطبہ جمعہ 9 نومبر ۱۹۷۹ء تو یہ جو صفات یہاں بیان ہوئیں عزیز، حمید اور لکے مُلک میں مالک ہونے کی اور شہید۔یہ چار صفات کے جلوے جب جماعت مومنین کی زندگی میں ظاہر ہوتے ہیں تو اس وقت جو مخالف اور منکر ہیں ان کے دل میں حسد پیدا ہوتا ہے۔وہ عزت مٹانا چاہتے ہیں ، خدا تعالیٰ عزت دے دیتا ہے۔وہ کمزور کرنا چاہتے ہیں الْقَوِی خدا تعالی طاقت دے دیتا ہے۔اب جتنا زور روؤسائے مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چند گنتی کے ساتھیوں کے خلاف لگایا کہ مٹ جائیں۔نہیں مٹا سکے۔اس واسطے کہ ان کا تعلق زندہ تعلق ، معرفت اور عرفان کا تعلق اس خدا سے تھا جو غالب ہے پھر جس وقت عرب اپنے معاشرہ اور معیشت اور اقتصادی لحاظ سے ایک کمزور ملک تھا۔دنیا میں طاقتور ممالک دو تھے بڑے، کسری ایک طرف، قیصر ایک طرف، جب کسری نے ساری توجہ مسلم عرب کی، مسلمان عرب جو تھا اس کی توجہ اپنی طرف کھینچی ہوئی تھی حملہ کر کے اور اس وقت قیصر نے سمجھا کہ یہ موقع ہے مٹادو اور فیصلہ کیا کہ مٹادے۔طاقت تھی دنیوی وہ اکٹھی کی۔کہتے ہیں چالیس ہزار کے مقابلہ میں تین لاکھ کی فوج لے کے آیا اور ان کو حکم یہ تھا کہ یہ لڑائی عام لڑائیوں کی طرح نہیں جس طرح پہلے لڑی گئی ہیں اسی طرح یہ لڑائی لڑی جارہی ہے کہ میدانِ جنگ میں اتنی بڑی طاقت میں بھیج رہا ہوں۔تین لاکھ ، چالیس ہزار کے مقابلے میں۔ہر دس ہزار کے مقابلے میں پچھتر ہزار سپاہی زیادہ اچھے ہتھیاروں سے ہتھیار بند ہیں کہ تم ان کو وہاں قتل کرو اور پھر مدینے میں جا کے سارے مسلمانوں کو مارو۔وہ جنگ یرموک کہلاتی ہے وہ جنگ یرموک نہیں تھی وہ اسلام کی جنگ تھی یعنی اس معنی میں کہ قیصر نے فیصلہ کیا تھا کہ اس جنگ کے ساتھ اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹادے گا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا اس عزیز خدا کے ساتھ مقابلہ ہے اور اس حمید خدا کے ساتھ مقابلہ ہے جس سے انہوں نے وہ طاقتیں اور قو تیں حاصل کی ہیں جو تعریف کے قابل ہیں اور تین لاکھ کیا تین کروڑ کی بھی اگر اس جگہ آجاتی فوج اور خدا تعالیٰ جو مالک اور متصرف بالا رادہ ہے کا منشا یہ ہوتا کہ مسلمان جیتیں گے ہاریں گے نہیں تو تین کروڑ بھی وہاں شکست کھا تا اور وہ مسلمان کو شکست نہ دے سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کا حکم تھا ہر دو جہان کو کہ اسلام اس میدانِ جنگ میں جیتے گا، ہارنے کے لئے نہیں اسلام کو قائم کیا گیا۔یہ ہے متصرف بالا رادہ۔تو یہ جب