خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 29
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۹ خطبہ جمعہ ۱۹ جنوری ۱۹۷۹ء صفات الہیہ کی کامل مظہریت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ہے خطبه جمعه فرموده ۱۹ جنوری ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات تلاوت فرمائیں اور ان کا ترجمہ سنایا:۔لقَد جَاءَكُمْ رَسُولُ مِنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ - فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ـ (التوبة: ۱۲۹،۱۲۸) تمہارے پاس تمہاری ہی قوم کا ایک فرد رسول ہو کر آیا ہے۔تمہارا تکلیف میں پڑنا اسے شاق گذرتا ہے اور وہ تمہارے لئے خیر کا بہت بھوکا ہے اور مومنوں کے ساتھ محبت کرنے والا اور بہت کرم کرنے والا ہے۔پس اگر وہ پھر جائیں تو تو کہہ دے کہ اللہ میرے لئے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور وہ عرشِ عظیم کا رب ہے۔پھر حضور انور نے فرمایا:۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء جو بنی نوع انسان کی طرف بھیجے گئے ہیں وہ خاندانی لحاظ سے بھی اور اپنے خُلق کے