خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 431
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۳۱ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۹ء کی اور چونکہ انصار اللہ کی زندگی بھی انسانی زندگی ہی ہے ایک پہلو اس کا۔اس لئے بعض بنیادی باتیں اس وقت میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (المائدة : ۷۰) خدا تعالیٰ کو حاصل کرنے ، اس کی معرفت پانے ، اس کی رضا حاصل کرنے ، اس کا پیارا بننے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں منطقی ترتیب کے ساتھ تین باتوں کا ذکر کیا ہے ایک ایمان باللہ ہے، خدا تعالیٰ پر ایمان لانا یعنی خدا تعالیٰ کو وہ ماننا جو وہ ہے۔وہ سمجھنا، وہ شناخت کرنا جو حقیقت ہے اس کی ہستی اور وجود کی جس کو ہم عام طور پر عرفان باری، اللہ تعالیٰ کی معرفت کا نام دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں ایک بے مثل ہستی ہے اور اس کی صفات میں بھی اس کا کوئی مثیل نہیں۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کا انسان سے تعلق ہے خدا تعالی کی ساری صفات کی حقیقت یہ ہے کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا ( ال عمران : ١٩٢) کہ ہر چیز جو اللہ تعالیٰ کے دست قدرت سے نکلی وہ باطل نہیں ہے۔کسی مقصد کے بغیر نہیں۔ایک مقصد ہے ہر پیدائش کا اور جیسا کہ دوسری آیات سے اور قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے ہمیں پتا لگتا ہے۔انسان کی پیدائش اس لئے ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا بندہ بنے اور خدا تعالیٰ کا بندہ بننے کے لئے اسے جس چیز کی بھی ضرورت اپنی انفرادی زندگی سے باہر تھی وہ سب ضرورت اللہ تعالیٰ نے مادی چیزوں کی پیدائش اور غیر مادی چیزوں کی پیدائش کے ساتھ پوری کر دی تو ربنا ما خَلَقْتَ هَذا بَاطِلًا کا جب انسان اعلان کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہم اس اللہ پر ایمان لاتے ہیں جس نے ہمیں اپنا عبد بننے کے لئے پیدا کیا۔اس لئے پیدا کیا کہ ہماری زندگی میں اس کے رنگ کی، اس کے نور کی جھلک ہو اور ہماری صفات پر بھی اس کی صفات کا رنگ چڑھے اور اس عظیم مجاہدہ کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت تھی انسان کو وہ اس نے پیدا کر دی اور اس نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کی جس سے فائدہ اٹھا کر ہم اپنی زندگی کے اس مقصد کے حصول میں کام نہ لیں۔تو ایمان باللہ جو ہے یہ انسان اور خدا کے تعلق میں ایک بنیادی حقیقت ہے۔خدا تعالیٰ کی معرفت کا حاصل کرنا اور یہ جاننا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا عبد بنانے کے لئے ہمیں پیدا کیا اور یہ نہیں کہ