خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 430
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۳۰ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۹ء اللہ تعالیٰ سے بڑا پیار پایا جاتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بڑی محبت پائی جاتی ہے۔یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کو انسانی دل میں پیدا کرنا ہے تو انہیں بہت سی قربانیاں دینی ہوں گی جس کے لئے وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ تیار ہیں ذہنی طور پر بھی اور قلبی طور پر بھی اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ علمی طور پر بھی اس کے لئے تیار ہوں۔یہ بڑی خوشی کی بات ہے لیکن دوسری طرف جو کمزور تھا وہ زیادہ کمزور ہو گیا۔مقابلے میں آگیا نا بہت زیادہ مخلصین کے تو ہزار میں سے ایک شاید بیس ہزار میں سے ایک شاید ایک لاکھ میں سے ایک ہولیکن ان کی جو شرارتیں اور ان کی نالائقیاں تھیں اللہ تعالیٰ سے ان کی جو بے وفائیاں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی جو بے پروا ہی تھی وہ نمایاں طور پر ہمارے سامنے آنے لگ گئی۔اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے بھی سامان پیدا کرے اور مخلصین کی اس نسل کو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کی حفاظت میں رکھے اور شیطان کے ہر حملہ سے انہیں محفوظ رکھے۔تو آج میں پندرہ لاکھ کے ٹارگٹ کے ساتھ ہی تحریک جدید کے سال نو کا اعلان کرتا ہوں تین شکلوں میں دفتر اول کے چھیالیسویں سال کا۔دفتر دوم کے چھتیسویں سال کا اور دفتر سوم کے پندرھویں سال کا ، جو نئے کمانے والے ہیں، جو نئے بلوغت کو پہنچنے والے ہیں۔جو پہلی دفعہ اپنے دلوں میں یہ احساس محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، خواہ روپیہ دو روپے ہی کیوں نہ ہو، خدا تعالیٰ کے دین کی راہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور مالی قربانیاں بھی پیش کرنی چاہئیں۔وہ اس کو مضبوط کریں۔مالی جو پہلو ہے اس کو بھی اور جو اس سے اہم دوسرے پہلو ہیں انہیں بھی مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے اور اللہ پر توکل اور اس سے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گی اور ان کو ادا کرنے کی اپنے رب کریم سے توفیق پائیں گی۔انصار اللہ کا اجتماع آج شروع ہے۔جو انصار سے تعلق رکھنے والی تفاصیل ہیں ان کے متعلق تو انشاء اللہ ان کے اجتماع میں بیٹھ کے ان سے گفتگو ہو گی لیکن بعض بنیادی حقیقتیں ہیں انسانی زندگی