خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 423
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۲۳ خطبہ جمعہ ۱۹ /اکتوبر ۱۹۷۹ء کر۔اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے اور اپنی رحمت سے اسے نوازتا ہے۔یہ لمبی آیت ہے اس کے ایک حصہ کے عربی کے الفاظ میں نے پڑھے ہیں۔دوسرے حصہ میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے لیکن انسانوں میں سے پھر کچھ لوگ وہ ہیں کہ جب خدا تعالیٰ ان کی دعا کو سنتا اور ان کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے اور اپنی رحمت سے نوازتا ہے تو تکلیف کو دور کرنے میں وہ دوسروں کو شریک کر دیتے ہیں اور مشرک بن جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی توحید پر قائم نہیں رہتے۔تکلیف کے وقت سوائے خدا کے انہیں کچھ یاد نہیں رہتا۔تکلیف دور ہونے کے بعد ہزار بت ہیں جو سامنے آجاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہ بھی فرماتا ہے کہ : وو آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ (النمل: ۶۳) کہ کون کسی بے کس کی دعا سنتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔جب وہ خدا سے دعا کرے خدا تعالیٰ اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے۔قرآن کریم نے فرمایا کہ وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا (الاعراف: ۵۷) خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو خوف اور طمع کے ساتھ۔اس آیت سے پہلی آیت میں کہا گیا تھا کہ تذلل اور اضطراری کیفیت کے ساتھ اور چپکے چپکے دعائیں کرو۔اس میں کہا گیا ہے کہ ہماری زندگی میں دو ہی حالتیں ہیں یا تم تکلیف میں ہو اور خوف کی حالت طاری ہے کہ تمہیں یہ نقصان پہنچ جائے گا۔تکلیف شروع ہو چکی ہے کوئی تکلیف دور ہوگی یا نہیں ہوگی۔یہ خوف ہے پھر یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ کہیں ناراض نہ ہو جائے۔مومن بندہ کو یہی خوف ہوتا ہے اور طبعا طمع کے ساتھ اس امید پر کہ دعا کریں گے۔اللہ تعالیٰ دُعا کو سنے گا اپنی رحمت سے ہمیں نوازے گا خدا تعالیٰ کی رحمت کی امید پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی برکت کے حصول کے لئے اور اس امید پر کہ وہ اپنی برکتوں اور اپنے فضلوں سے نوازے گا۔اس کے حضور جھکو اور اس سے دعائیں کرو اور اس خوف سے کہ کہیں اگر دوری ہو جائے اگر قرب کی راہیں وانہ ہوں ہماری زندگی میں تو شیطان کا میاب حملہ آور نہ ہو جائے ہم پر اور ہم خدا کی بجائے شیطان کی گود میں نہ چلے جائیں اس خوف سے خدا تعالیٰ سے مدد مانگو کہ اس کی مدد کے بغیر کچھ مل نہیں سکتا۔