خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 388
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۸۸ خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۷۹ء وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کرنے والا ہے۔پھر فرمایا کہ باہمی امانتوں میں خیانت نہ کرو وَتَخُونُوا امنتكم باہمی امانتوں کے متعلق جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔ان کے معنے فرض کے اور عہد کے ہیں اور آپس کے جو حقوق ایک دوسرے کے اللہ تعالی نے قائم کئے وہ بنیادی طور پر اور اصولی لحاظ سے بہت سے ہیں جن میں سے آج میں نے چند ایک مثالیں آپ کو سمجھانے کے لئے منتخب کی ہیں۔باہمی امانتیں ہیں۔مال سے تعلق رکھنے والی تو فر ما یاکسی کا مال نہ کھاؤ۔یہ بددیانتی ، خیانت اور امانت کے خلاف یہ فعل مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ایک شخص اپنے مال کا ایک حصہ دوسرے کے پاس بطور امانت کے رکھ دیتا ہے۔اس کا فرض ہے کہ جب وہ مانگے اسے واپس دے۔ایک مال کا یہ حق ہے کہ خرید وفروخت کے وقت جتنا پیسہ جتنی رقم کوئی شخص دے اس کے مطابق اس کو سودا دیا جائے اگر ایک کلو کی قیمت دوروپے ہے تو جو دکاندار دو روپے لے لیتا ہے لیکن تولتے وقت وہ ہوشیاری کے ساتھ ایک کلو کی بجائے کسی کو پندرہ چھٹانک دیتا ہے تو یہ مال کے حقوق کو اس نے غصب کیا ہے۔وہ خیانت کرنے والا بن گیا۔ایک یہ بھی ہے کہ بعض لوگ یتیموں کا مال کھا لیتے ہیں۔قرآن کریم نے اس تفصیل میں جا کے بھی بہت سی چیزوں کے متعلق روشنی ڈالی۔کچھ ہدایتیں ہمیں اصولی طور پر دے دیں کہ ہم اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں ان ہدایات سے روشنی حاصل کر کے صداقت اور حق پر اپنے اعمال کو قائم رکھ سکتے ہیں۔پھر جان کے حقوق ہیں۔یہ دوسرا چھوٹا عنوان ہے باہمی امانتوں کے متعلق جان کا ایک حق تو یہ ہے کہ بغیر حق کے کوئی جان نہ لی جائے۔قرآن کریم نے یہ اعلان کیا ہے اور یہ بڑا ز بر دست اعلان ہے۔پھر جان کا ایک حق یہ ہے کہ ایسا فتنہ نہ پیدا کیا جائے کہ کسی جان کو ایذا اور دکھ پہنچے۔الْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (البقرة : ۱۹۲) اور اسلام نے کسی کی جان لینے سے زیادہ اس کو اہمیت دی ہے کہ سولی پر لٹکائے رکھنا، زندگی اجیرن کر دینا ، جان کا حق یہ ہے کہ اس کی پرورش کے لئے جو کچھ اسے چاہیے وہ اسے دیا جائے۔ایسی بیسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔پھر انسان کی عزت کے حقوق ہیں۔ہر انسان اشرف المخلوقات کا ایک فرد اور خدا کی نگاہ