خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 367
خطبات ناصر جلد هشتم خطبہ جمعہ ۱۴ ستمبر ۱۹۷۹ء کانوں میں پڑتی ہیں اور ذہنوں میں چلا پیدا ہوتا ہے اور اخلاقی لحاظ سے اس معنی میں کہ اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے خدام و انصار کو کہ حقیقی مسلمان بنے کی کوشش کرو۔(خُلُقُهُ الْقُرْآنُ )۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ایک نمونہ ہیں آنے والی نسلوں کے لئے اس معنی میں کہ آپ کے اندر دو خصوصیات نمایاں طور پر پائی جاتی تھیں۔ایک آپ حنیف تھے دوسرے آپ مسلم تھے۔حَنِيفًا مُسْلِمًا (ال عمران : ۶۸) ہر وقت خدا تعالیٰ کے حضور جھکے رہنے والے اور ہر دم اللہ تعالیٰ کے احکام بجالانے والے اور اطاعت کرنے والے۔یہ نمونہ ایسا ہے جسے نظر انداز آنے والی نسلیں بھی نہیں کر سکتیں نمایاں طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں یہ دو باتیں قرآنِ عظیم کے بیان کے مطابق پائی جاتی ہیں۔حَنِيفًا مُسْلِمًا آپ کی زندگی کے متعلق تو اس وقت میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔مختصر کہنا چاہتا ہوں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے قریب تر دوگروہ ہیں ایک وہ جو آپ پر ایمان لائے اور آپ کی جماعت میں شامل ہو گئے اور ایک وہ گروہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور اُمت مسلمہ میں شامل ہوا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور نوع انسانی کی خاطر عاجزانہ دعائیں بھی کیں اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ان کے سامنے بیان کی اور غور سے دیکھا جائے تو صدیوں صدیوں اپنی نسل کو اس بات کے لئے تیار کیا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا وجود پیدا ہو تو اسے قبول کریں اور اس قابل ہو جا ئیں اس عرصہ میں کہ جو ذمہ داریاں کامل طور پر ایک کامل کتاب کے نازل ہونے کے ساتھ امت مسلمہ پر پڑنے والی تھیں جن کے پہلے مخاطب یہ لوگ ہونے والے تھے ان کو اٹھانے کے لئے وہ تیار ہوں۔پس ایک مسلمان کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ حنیف بھی ہواور مسلم بھی ہو۔خدا تعالیٰ کے حضور ہر آن عاجزانہ جھکنے والا بھی ہو اور خدا تعالیٰ کی کامل اطاعت کرنے کی کوشش کرنے والا بھی ہو۔یہ دونوں باتیں ہزار ہا پہلو اپنے اندر رکھتی ہیں۔ایک ایسا درخت ہیں جس کی ہزار ہا شاخیں ہیں۔بعض پہلو ایسے ہیں جو ہم خدام الاحمدیہ میں نمایاں دیکھنا چاہتے ہیں بعض پہلو ایسے ہیں جو ہم