خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 366
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۶۶ خطبہ جمعہ ۱۴ ستمبر ۱۹۷۹ء تمام جماعتیں شمولیت اختیار کریں۔یہ درست ہے کہ بعض جماعتیں بڑی ہیں اور بعض تعداد میں بڑی ہی مختصر۔بعض دفعہ دو چار گھرانوں پر مشتمل ایک جماعت ہوتی ہے۔یہ بھی درست ہے کہ بعض جماعتیں فعال ہیں، تندہی سے اپنے دینی فرائض انجام دینے والی ہیں اور بعض سست ہیں اور ان کی اصلاح کی ضرورت ہے۔یہ بھی صحیح ہے کہ بعض اضلاع کے امراءاپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے اور وقت خرچ کرتے اور توجہ سے کام لیتے ہوئے کوشش کرتے ہیں کہ جو ان کی ذمہ داریاں ہیں وہ پوری طرح ادا کریں اور بعض اضلاع کے امراء نسبتا ست ، پوستی اور کمزوری دکھانے والے ہیں۔یہ بھی درست ہے کہ ہمارے بعض مربی صاحبان کو اللہ تعالیٰ ایثار کے ساتھ اور محبت اور پیار کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی توفیق عطا کرتا ہے اور وہ جماعت کے لئے ایک نمونہ بنتے اور حقیقی معنی میں قائد ہوتے ہیں اور اپنے پیچھے دوسروں کو نیکی کی راہوں پر چلاتے ہیں لیکن ہمارے بعض مرتی ایسے بھی ہیں جو اپنے کام کی طرف توجہ نہیں دیتے۔جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ساتھ پیار اس طرح نہیں جس طرح آگ بھڑک رہی ہو اور بے چین کر دینے والی ہو اور اس کے نتیجے میں وہ علاقے جن میں کام کر رہے ہوتے ہیں سست ہو جاتے ہیں اور ان مربی اصحاب کو ایک منٹ کے لئے بھی کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی حالانکہ ان کی تو نیندیں حرام ہونی چاہئیں اگر کسی جگہ وہ سستی اور کمزوری اور کوتاہی دیکھیں۔یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ میری یہ خواہش ہے کہ کوئی ایسی جماعت نہ رہے جس کا کوئی نمائندہ اس اجتماع میں شامل نہ ہو۔اس لئے میں امرائے اضلاع کو اور مربی صاحبان کو اور ان کو جو ان لوگوں کی نگرانی کرنے والے ہیں یہ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ذمہ دار ہیں اس بات کے کہ ہر جماعت سے خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں نمائندہ آئے۔اگر چھوٹی جماعت ہے ایک نمائندہ آئے مگر آئے ضرور۔ہر جماعت سے انصار اللہ کے اجتماع میں نمائندہ شامل ہو خواہ ایک ہی ہوا گر وہ چھوٹی جماعت ہے لیکن آئے ضرور۔ہمارے یہ اجتماع دنیوی میلے نہیں۔یہ اجتماع ذہنی اور اخلاقی تربیت کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں۔ذہنی تربیت کے لئے اس معنی میں کہ بہت سی نیکی کی باتیں شامل ہونے والوں کے