خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 22 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 22

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۲ خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء (العنكبوت: ۱۹ ) اگر تم میری بات کو جھوٹا قرار دوتو یہ کوئی نئی بات نہیں۔تم سے پہلی قوموں نے بھی اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور رسول کا کام تو صرف کھول کھول کر پہنچانا ہوتا ہے زبر دستی منوانا نہیں ہوتا۔اور سورہ شوری میں ہے۔فَإِنْ أَعْرَضُوا فَمَا اَرْسَلْنَكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَاغُ (الشورى: ۴۹) اس سے پہلے یہ تھا اِسْتَجِيبُوا لِرَبِّكُم جو تمہارے سامنے صداقت آئی ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا خدا کا کلام اور خدا کی شریعت کو ، اِسْتَجِيبُوا لِرَتِّكُم اور انہوں نے کہا یہ صداقت ہے اس پر ایمان لاؤ تو ایمان لاؤ کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا منشا ہے کہ تم ایمان لاؤ اور ترقی کرو اور اپنی حیات کا مقصد حاصل کرو۔آگے فرماتا ہے۔فَاِنْ اَعْرَضُوا ان کو کہا گیا تھا اِسْتَجِيبُوا قبول کرو، اگر وہ قبول نہ کریں بلکہ اعراض کریں فَمَا اَرْسَلْنَكَ عَلَيْهِمُ حَفِيظا تو تجھے ہم نے نگران بنا کر نہیں بھیجا إِن عَلَيْكَ الا البلاغ تجھ پر صرف پہنچادینا فرض ہے، اس سے زیادہ کوئی فرض نہیں۔پھر سورہ تغابن میں ہے۔وَ أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّيْتُهُ فَإِنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا البلغُ الْمُبِينُ ( التغابن : ۱۳) اور اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرو لیکن اگر تم پھر جاؤ تو ہمارے رسول پر صرف کھول کر بات پہنچا دینا ہی فرض ہے۔دو دو یہاں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ اسی سورۃ کی اور بہت سی آیات میں بھی بیان ہوا ہے۔میں اسے مختصراً بیان کروں گا۔پہلے کہا گیا فَا مِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ (التغابن: 9) حکم ہے بنی نوع انسان کو کہ اللہ پر اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ۔اس کے بعد فرمایا۔وَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللهِ (التغابن : ۱۰) جو شخص ایمان لے آئے تو اس کے متعلق بتایا کہ اس کو خدا تعالیٰ یہ جزا دے گا یعنی پیار کی جنتوں میں اسے داخل کرے گا۔پہلے کہا ایمان لاؤ۔پھر کہا جو ہماری بات مان کے ایمان لے آئیں گے ان کے ساتھ پیار کا یہ سلوک ہوگا۔پھر کہا کہ وَالَّذِينَ كَفَرُوا (التَّغابن:١١) جو ایمان نہیں لائیں گے ان کو دوزخ میں بھیجا جائے گا، یہ سلوک ہوگا، ان کے ساتھ۔پھر کہا وَ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَةُ (التغابن: ۱۲) کہ جو شخص ایمان لاتا ہے اس کے دل کو خدا تعالیٰ ہدایت دیتا ہے، صحیح اور سچا ایمان، جو قلب سلیم کے اندر گھستا اور اس کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم برپا کرتا ہے۔