خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 21
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۱ خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان بنایا، سننے کے لئے اسے کان دیئے ،معجزات و نشانات کو دیکھنے کے لئے اسے آنکھیں دیں ، سوچ اور غور وفکر کے لئے خدا تعالیٰ نے انسان کو دل دیا اور آسمانوں سے اتنی ساری نعمتیں نازل کیں اور اس طرح اپنی عظمت کے نشان ظاہر کئے اور یہ سارا کچھ اس لئے کیا گیا تا کہ اے انسان! تو اس کا فرمانبردار بن جائے ، یہ پچھلا مضمون ہے۔یہ جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں فرمایا فان تولوا اگر کانوں کے ہوتے ہوئے ، اگر آنکھوں کے ہوتے ہوئے اور دل کے باوجود اور ان تمام بے شمار بے حد و حساب نعمتوں کی موجودگی میں بھی فان تولوا وہ اب بھی پھر جائیں (اس کے مخاطب بھی غیر مسلم ہیں ) تو اس کی وجہ سے اے نبی ! تجھ پر الزام نہیں آئے گا کیونکہ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ الْمُبِین تیرے ذمہ صرف کھول کر پہنچا دینا ہے، اس سے زیادہ اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔سورہ نور میں ہے قُلْ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُيْلَ وَ b عَلَيْكُمْ مَا حِلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَ مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ ( النور : ۵۵) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو کہہ دے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔پس اگر وہ پھر جائیں تو اس رسول پر صرف اس کی ذمہ داری ہے جو اس کے ذمہ لگایا گیا ہے (یعنی پہنچاؤ اپنی رسالت کو ) اور تم پر اس کی ذمہ داری ہے جو تمہارے ذمہ لگایا گیا ہے کہ تم ایمان لاؤ، زبان سے اقرار کرو اور دل سے تصدیق اور اپنے اعمال سے ، اپنے جوارح سے اپنے ایمان پر مہر ثبت کرو۔اگر تم اس کی اطاعت کرو اور حقیقی مسلمان بن جاؤ تو ہدایت پا جاؤ گے اور اس دنیا میں اور اُخروی زندگی میں کامیاب ہو گے اور رسول کے ذمہ جو بات لگائی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ وہ کھول کر تمہارے پاس پہنچا دے۔رسول کی بحیثیت رسول یہ ذمہ داری ہے کھول کر تمہارے سامنے بیان کر دے۔یہاں مخاطب جو ہیں وہ کمزور مسلمان اور منافق ہیں اور یہاں بھی فان تولوا میں فسق کی توتی بھی ہے اور اعلان ارتداد بھی آجاتا ہے۔سورۂ عنکبوت میں ہے۔وو ط دو وَ اِنْ تُكَذِبُوا فَقَد كَذَّبَ امَهُ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ