خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 353
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۵۳ خطبه جمعه ۲۴ /اگست ۱۹۷۹ء 9966 تو کبر اور غرور نہیں بلکہ ”خدمت عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ تربیت کی توفیق پانا‘ خدام وانصار کا اور اتنی بڑی ذمہ داری! اتنی بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے تم پر کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جب آدمی سوچتا ہے کہ ذمہ داری کتنی بڑی ہے اور طاقت کس قدر تھوڑی۔یہی سمجھ آتا ہے کہ خدا سے دعا مانگ کر جتنا زیادہ سے زیادہ انسان کر سکتا ہو کر دے اور باقی ( جیسا کہ خدا نے وعدہ کیا ہے کہ اگر تم اپنی سی کر لو گے تو کمی کو میں پورا کر دوں گا )۔انسان دعا کرے کہ اے خدا! میری کوشش کو خواہ وہ حقیر ہی کیوں نہ ہو ایسا بنا دے کہ قبول ہونے کے لائق ہو تیرے حضور۔اور جب خدا قبول کر لیتا ہے انسان کی کوشش کو تو خامیاں دور کر دیتا ہے اور نتائج پورے نکال دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے خدام کو اپنی ذمہ داریاں ، انصار کو اپنی ذمہ داریاں اور جماعت کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے اور اس کے نتیجے میں اس نے جو نعماء کے وعدے اور بشارتیں دی ہیں وہ ہماری نسلوں میں ہماری زندگیوں میں اور آنے والی نسلوں کی زندگیوں میں پوری ہوں۔روزنامه الفضل ربوه ۱۵ /اکتوبر ۱۹۷۹ ء صفحه ۳،۲)