خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 344 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 344

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۴۴ خطبہ جمعہ ۱۷ /اگست ۱۹۷۹ء گناہ ، کوتاہیاں اور قصور ہو جاتے ہیں۔انسان انسان میں فرق ہے۔اس وقت انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور اسی سے معافی مانگے اور بخشش طلب کرے اور اس کے پیار کو حاصل کرے۔اس کے دامن کو پکڑے اور کہے کہ ہاتھ تو گندے ہیں اے میرے خدا! پر تیرے دامن کی پاکیزگی کو میرے گندے ہاتھ نا پاک نہیں کر سکتے۔تیری پاکیزگی میرے ہاتھوں کو پاکیزہ بناسکتی ہے۔مجھے پاک بنادے۔سولہویں یہ بتایا کہ یہ متقی وہ لوگ ہیں جو اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کرنے والے، اپنی تمام طاقتوں کو خدا کے لئے پرورش کرنے والے اور خرچ کرنے والے اور زمین و آسمان کی نعمتوں کو پھر اس کے حضور پیش کر دینے والے اور اس کی تعلیم کے مطابق اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے مطابق اپنی زندگی گزارنے والے ہیں۔ان متقیوں کی جزا ان کے رب کی طرف سے نازل ہونے والی مغفرت ہے اور چار باتیں یہاں بیان ہوئی ہیں۔(() ان کے رب کی طرف سے نازل ہونے والی مغفرت ایسے متقیوں کی جزا ہے۔مغفرت کے معنی ہیں گناہ کو ڈھانپ لینا، گناہ کو معاف کردینا، گناہ کی اصلاح کر دینا، آئندہ کے لئے گناہ کے دروازے کو بند کر دینا اور عذاب سے محفوظ کر لینا ، حفاظت کرنا۔عذاب جو ہے، عقلاً زمانہ کے لحاظ سے عذاب کے دو زمانے ہیں۔انسانی زندگی میں عذاب کے دو زمانے ہیں۔ایک جنت میں جانے سے پہلے کا زمانہ (عقلاً میں نے کہا ہے ) اور ایک جنت میں جانے کے بعد کا زمانہ۔ابھی میں اس کو کھول کر بیان کر دوں گا آپ کے سامنے۔جنت میں جانے سے پہلے کا زمانہ تو صاف ہے۔مثلاً جہنم جو ہے حدیث میں آتا ہے کہ وہ ایک اصلاحی ادارہ ہے اور اس میں قہر کے سخت جلوے ہیں۔اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے ایک سیکنڈ کا بھی خدا تعالیٰ کے قہر کا عذاب انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ برداشت کرے لیکن جن کو بھیجا جائے گا جہنم میں ان کو ہمیشہ کے لئے نہیں بھیجا جائے گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک وقت جہنم پر ایسا آئے گا کہ اس کے دروازے کھلے ہوں گے تمثیلی زبان میں ہمیں سمجھانے کے لئے بات کی گئی کہ وہاں پہریدار ہیں ، دروازے ہیں، قفل لگے ہوئے ہیں کہ کوئی باہر نہ چلا جائے لیکن