خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 343
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۴۳ خطبہ جمعہ ۱۷ /اگست ۱۹۷۹ء اس کمزوری پر اصرار نہ کریں بلکہ جب گناہ سرزد ہو تو وہ فوراً تو بہ کریں۔اگر بے حیائی کا ، فحشا کا کوئی فعل ان سے سرزد ہو جائے ، ماہ رمضان میں کو چہ بازار میں لڑ پڑیں کسی سے یا اپنے نفسوں کے حقوق کی ادائیگی میں غفلت برتیں یا دوسروں کے حقوق تلف کر کے اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اسی وقت تو بہ کریں اور خدا سے کہیں کہ اے خدا! میں نے غلطی کی۔میں کمزور انسان ہوں تو مالک ہے مجھے سزا بھی دے سکتا ہے لیکن تو بڑا پیار کرنے والا ہے اور معاف کرنے والا بھی ہے میری استدعا ہے کہ تو میرے گناہوں کو معاف کر دے جو میری غلطی اور گناہ ہے اس کے بداثرات سے، اپنے قہر کے جہنم سے ، عذاب سے مجھے بچالے، مغفرت کی چادر کے اندر مجھے ڈھانپ لے۔اور پھر پندرھویں بتایا کہ بے حیائی کا کام کرنے اور جانوں پر ظلم کرنے کے بعد اپنے گناہوں پر اصرار نہیں کرتے۔جو حالت اصرار کی ہے وہ زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔ایک گناہ کرنا پھر اسی کو دوبارہ کرنا پھر اسی کو دوبارہ کرنا پھر اور دلیر ہو جانا، اگر کوئی توجہ بھی دلائے تو اس کے سامنے اکڑ جانا کہ تو بڑا متقی بنا ہوا ہے مجھے سمجھاتا ہے۔سمجھانے والوں کو بھی چاہیے کہ علیحدگی میں سمجھا ئیں جہاں شیطان کے وار کی کوئی گنجائش نہ رہے۔پس اس میں یہ بتا یا کہ متقی وہ ہیں جو اپنے گناہوں پر اصرار نہیں کرتے۔بے حیائی ہو جاتی ہے، بشری کمزوری ہے۔اپنی جانوں پر ظلم ہو جاتا ہے کمزور ہے انسان لیکن فورا سنبھلتا ہے، اپنی طاقت کی طرف رجوع نہیں کرتا ، اپنے پیدا کرنے والے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور خدا کو کہتا ہے کہ اے خدا تو بخش سکتا ہے، تو مجھے بخش دے، تو مغفرت کی چادر کے نیچے مجھے ڈھانپ سکتا ہے تو مجھے ڈھانپ لے تجھی میں یہ طاقت ہے مجھ میں نہیں کہ میرے گناہ کے بداثرات جو ہیں ان سے میں محفوظ رہوں۔اے خدا! تو مجھے میری بداعمالیوں ، میرے گناہوں کے بداثرات سے محفوظ رکھ۔تو ان کا خدا انہیں بخش دے گا۔لیکن یہ یا درکھنا چاہیے۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ خدا چونکہ بخش دے گا اس واسطے جو مرضی کرتے جاؤ۔خدا مالک ہے، وہ بخشتا بھی ہے مالک کی حیثیت سے اور مالک کی حیثیت سے وہ سزا بھی دیتا ہے۔خدا مالک ہے چاہے سزا دے چاہے گناہ بخش دے۔اس واسطے انسان کو گناہ پر دلیر نہیں ہونا چاہیے لیکن انسان سے انسانی کمزوری بشری کمزوری کے نتیجہ میں چھوٹی بڑی غفلتیں،