خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 20
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۰ خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء پہنچانا واجب ہے اور جو بات عملاً تم سے ظہور میں آجاتی ہے اور اس کو بھی جو تم سے ابھی عملاً ظہور میں نہیں آئی ، اللہ خوب جانتا ہے اور جہاں تک جزا اور سزا کا تعلق ہے وہ خود تمہارے ساتھ معاملہ کرے گا۔ہمارے رسول کی سوائے بلاغ کے، سوائے صداقت کو کھول کے بیان کر دینے اور تمہیں سمجھا دینے کے اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔اس آیت کی تفسیر میں امام رازی کہتے ہیں کہ وَاعْلَمْ أَنَّهُ تَعَالى لَمّا قَدَّمَ التَّرْهِيبَ وَالتَّرْغِيْبَ بِقَوْلِهِ أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ وَ انَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِیم کہ جو پہلی آیت کے آخر میں تھا شَدِيدُ الْعِقَابِ - غَفُورٌ رَّحِيم تو یہ تر ہے اندار، ڈرانا اور یہ رغبت دلانا، بشاشت پیدا کرنا ، بشارت دینا کہ خدا تعالیٰ شَدِيدُ الْعِقَابِ بھی ہے اور غَفُورٌ رَّحِیم بھی ہے اس کے بعد اَتْبَعَهُ بِالتَّكْلِيفِ بِقَوْلِهِ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا البلغ خدا تعالیٰ نے یہ مضمون بیان کیا کہ خدا کے رسول کو کس چیز کا مکلف بنایا جاتا ہے۔کیا ذمہ داری ڈالی جاتی ہے۔اور یہ بتایا کہ اس کے اوپر ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ کھول کر پہنچا دے، بلاغ۔یعنی أَنَّهُ كَانَ مُكلفا یعنی رسول کو مکلف بنایا جاتا ہے بِالتَّبْلِيغِ کہ وہ تبلیغ کرے۔فَلَمَّا بَلَغَ جب وہ اس ذمہ داری کو پورا کر دے اور کھول کھول کر ہر ایک کے سامنے صداقت کو بیان کر دے خَرَجَ عَنِ الْعُهْدَةِ اس نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، اس کے اوپر کوئی الزام نہیں آئے گا۔وَ بَقِيَ الْأَمْرُ مِنْ جَانِبِكُمْ باقی رہ گیا تمہارا معاملہ، تمہارا امرتو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَنَا عَالِمُ بِمَا تُبْدُونَ وبِمَا تَكْتُمُون تو تمہارے ظاہر و باطن کو میں جانتا ہوں۔فَإِنْ خَالَفْتُمْ اگر تم جو صداقت آئی ہے اس کی مخالفت کرو زبان سے، دل سے، اپنے عمل سے ، فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ تو یہ نہ بھولنا آزادی تو ہے، کرو نہ کرو، یہ نہیں کہ نہیں کرنے دیں گے مگر یہ نہ بھولنا کہ خدا تعالی کی گرفت بڑی سخت ہوتی ہے۔وَ اِنْ أطَعْتُم اگر تم نے صداقت کی جو باتیں سنیں ، جو پیار کے حصول کی راہیں تمہیں دکھائی گئیں ان پر تم چلے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی تو جان لو آن اللهَ غَفُورٌ رَّحِیم کہ خدا تعالیٰ غفور رحیم ہے۔سورہ نحل میں ہے فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ الْمُبِينُ (النحل: ۸۳) اس سے پہلے مضمون