خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 342 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 342

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۴۲ خطبہ جمعہ ۱۷ راگست ۱۹۷۹ء گیارھویں فرمایا کہ ہمیشہ فراخی اور خوشحالی کی حالت ہر انسان کے لئے تو نہیں رہتی تنگی بھی ہے تکلیفوں کا زمانہ بھی ہے، قحط کے آثار بھی ظاہر ہو جاتے ہیں اور قحط کے آثار میں بھی۔طبقات طبقات میں فرق پڑ جاتا ہے، غریب کے لئے زیادہ مشکلیں پیدا ہو جاتی ہیں۔امیر کے لئے نسبتا کم مشکلیں، تو فرمایا کہ وہ تکلیفوں اور تنگی کی حالت میں اور قحط کے دنوں میں سخاوت سے تنگ دل نہیں ہو جاتے وہ اپنے مقدور کے مطابق سخاوت کرتے چلے جاتے ہیں اور مخلوق خدا کی خدمت کے ذریعہ وہ اپنے پیدا کرنے والے ربّ کریم کے پیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جس موعودہ جنّت کا یہاں ذکر ہے اس کے حق دار بننے کے لئے وہ ایک جہاد کر رہے ہوتے ہیں۔بارھویں یہاں یہ بات بتائی کہ یہ متقی وہ ہیں جو غصہ پی جاتے ہیں۔غصہ ایک جذباتی کیفیت ہے، غصہ انسان کو پاگل کر دیتا ہے۔غصہ اور عقل سلیم ایک جا اکٹھے نہیں ہو سکتے ، غصہ کرنے والے ہمیشہ بے وقوفی کی باتیں کرتے اور احمقانہ اعمال بجالاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرما یا مومن غصہ نہیں کرتا۔متقی غصہ پی جاتا ہے اس کے سب کام خدا کی رضا اور اس کی مخلوق کی بہبود کے لئے ہوتے ہیں۔وہ غصے میں آکر لوگوں کے اوپر ظلم کے لئے تیار نہیں ہو جاتا۔پھر تیرھویں یہ بتایا کہ متقی وہ ہیں جو یاوہ گو اور ظالم طبع لوگوں کے حملہ کو معاف کر دیتے ہیں۔بیہودگی کا بیہودگی سے جواب نہیں دیتے۔بڑا وقار ہے متقی میں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں یہ بات یا درکھو کہ " قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خواہ نخواہ اور ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے اور شریروں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا چاہیے کہ وہ محل اور موقع گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کا ہے۔پس مجرم کے حق میں اور نیز عامہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الواقع بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔چودھویں بات ان آیات میں ( اگلی آیت شروع ہوگئی ہے ) یہ بتائی کہ ان متقیوں کے لئے یہ جنتیں بنائی گئی ہیں کہ جب وہ کسی بشری کمزوری کے نتیجہ میں بے حیائی کا کام کر بیٹھیں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اور پھر اللہ تعالیٰ کو یاد کریں یعنی ”غلطی بشری کمزوری سے ہو ہی جاتی ہے لیکن 66