خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 340 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 340

خطبات ناصر جلد هشتم اور نارِ جہنم سے بچنا ناممکن ہے۔۳۴۰ خطبہ جمعہ ۱۷/اگست ۱۹۷۹ء ساتویں یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایک ایسی جنت کی شکل میں انسان کے سامنے رکھی گئی ہے جس کی قیمت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ اس کی وضاحت کی ضرورت ہے۔ہر آدمی یہ بات آسانی سے سمجھ نہیں سکتا۔چنانچہ سورۃ لقمان میں فرمایا کہ الم تَرَوْا أَنَّ اللهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِى السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً (لقمان : ۲۱) اور سورۃ جاثیہ میں فرمایا:۔وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّبُوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ١٤) اس سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت اس شکل میں بھی آتی ہے ( میں یہ ترتیب ذرا بدل دوں گا آپ کو سمجھانے کے لئے ) کہ ایسی جنت ملتی ہے جس کی قیمت آسمانوں اور زمین کے برا بر ہے یعنی آسمانوں اور زمین میں ہر شے جو ہے تم اس کی جو بھی قیمت لگاؤ وہ خدا تعالیٰ کی موعودہ جنت کی قیمت ہے اور وہ اس طرح پر کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی طلب میں انسان اسلام کی ہدایت کی روشنی میں اپنی سب طاقتوں اور استعدادوں کو بروئے کارلاتا ہے۔حکم یہ ہے انسان کو کہ جو تمہیں میں نے طاقتیں، قوتیں ، صلاحیتیں اور استعدادیں دی ہیں وہ ساری میرے حضور پیش کر دو۔میرے حکم کے مطابق ، میری بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق ، میری رضا کے حصول کے لئے ، میرے پیار کو پانے کے لئے تم ان کو خرچ کرو تو آسمانوں اور زمین کی ہر شے کے فقرہ میں نوع انسان کی وہ طاقتیں بھی شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کیں اور یہ استعدادیں، یہ طاقتیں اتنی عظیم ہیں کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں، کہ جن سے انسان خدمت نہ لے رہا ہو یا خدمت نہ لے سکتا ہو اور بعض جگہ بعض چیزیں پوشیدہ ہیں۔ابھی تک ہمارے علم میں نہیں انسان کو یہ طاقت دی کہ دنیا کی ہر شے سے خدمت لے سکتا ہے، اپنی بھلائی اور خوشحالی کے سامان پیدا کر سکتا ہے اس دنیا کی خوشحالی کے بھی اور مرنے کے بعد کی زندگی اُخروی زندگی کی خوشحالی کے بھی۔کیونکہ فرمایا کہ جو اس دنیا میں اندھا ہو گا وہ اُخروی زندگی میں بھی اندھا ہوگا تو وہاں دیکھنے کی آنکھ یہاں حاصل کرنی پڑتی ہے۔ان سامانوں کو استعمال کر کے قوتوں اور