خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 311
خطبات ناصر جلد هشتم ٣١١ خطبه جمعه ۳/اگست ۱۹۷۹ء وَلْيُؤْمِنُوا في اور خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اس کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کرو جس کا ایک ذریعہ عاجزانہ دعائیں بھی ہیں۔تو تمہیں کامیابی اور ہدایت مل جائے گی۔قرآن کریم نے محض یہ نہیں کہا کہ دعا ئیں کرو میں قبول کروں گا بلکہ قرآن کریم نے ایک عالم کا عالم دعاؤں کا ہمارے سامنے کھول کے رکھ دیا ہے۔اس میں سے (جو ایک لمبا مضمون ہے) کچھ حصے میں نے چنے ہیں آج کے خطبہ کے لئے۔اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں فرماتا ہے:۔رَبَّنَا اتنا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ:۲۰۲) یہاں دعاؤں کی بنیاد رکھی گئی۔یہاں یہ فرمایا گیا کہ دنیوی نعماء کے حصول کے لئے بھی دعائیں کریں اور اُخروی نعماء کے حصول کے لئے بھی دعائیں کرو اور وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کا فقرہ ورلی زندگی اور اُخروی زندگی کو باندھ دیتا ہے کیونکہ اسی زندگی کی بنیاد پر اخروی زندگی کی جنتوں کا انحصار ہے تو بہت بڑا عالم ہمارے سامنے رکھ دیا گیا۔فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً دنیا کی ساری نعمتیں جو خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے پیدا کی ہیں تم ان کے حصول کے لئے دعائیں کرو۔صرف یہ کہہ کے کہ دعائیں مانگو خاموشی نہیں اختیار کی بلکہ کیا دعائیں مانگو اس کے اوپر بھی بڑی وسیع روشنی ڈالی گئی ہے۔فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کے دو پہلو ہیں۔ایک ایسی نعمتیں ہیں ہماری اس ورلی زندگی سے تعلق رکھنے والی جن کا تعلق خود ہمارے نفس کے ساتھ ہمارے وجود کے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بے شمار قوتیں اور استعداد میں عطا کی ہیں ان کے لئے دعائیں مانگو کہ اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق پروان چڑھیں اور ان قوتوں کو اس لئے دیا گیا انسان کو کہ جو یہ کہا گیا تھا کہ تمہاری خدمت پر ہر شے کو مامور کیا گیا ہے وہ ہر شے سے خدمت لینے کے قابل ہو جائے۔سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ۱۴) تمہیں ہر طاقت دے دی گئی تا تم ہر شے سے خدمت لے سکو تو دعا مانگو کہ اس قدر عظیم نعمتیں جو تمہیں ملیں ، آنکھ ہے خدا تمہیں توفیق دے کہ آنکھ سے بہترین اور اعلیٰ ترین اور پورے کا پورا فائدہ اٹھانے والے بنو تم۔یہ دعا خدا تعالیٰ سے مانگو۔بہت سے آنکھوں والے ہیں جو آنکھیں رکھتے ہوئے بھی آنکھوں سے فائدہ نہیں اٹھا ر ہے اور اندھے کے اندھے اس دنیا سے گزر جاتے ہیں۔قرآن کریم میں بہت جگہ ان کا ذکر آیا ہے۔کان ہیں جن