خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 310
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۱۰ خطبه جمعه ۳/ اگست ۱۹۷۹ء اس لئے بھی کہ اگر کسی کو ٹوٹی پھوٹی عربی آتی بھی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کے اپنی ضرورتوں کو اس زبان میں ادا نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ تو عَلامُ الْغُيُوبِ ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن بندے کو تو تسلی تب ہوتی ہے جب وہ اپنی زبان میں اپنا مافی الضمیر دوسرے کے سامنے بیان کر دے۔اس لئے جماعت احمدیہ کا مسلک یہ ہے کہ نماز میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسنون عربی دعائیں اسی طرح عربی میں پڑھنی چاہئیں۔ہر مسلمان کو وہ عربی عبارتیں یاد ہونی چاہئیں خواہ وہ بچہ ہو خواہ اس کے معنی اس نے ابھی سیکھے ہوں یا نہ سیکھے ہوں لیکن نماز میں ان دعاؤں کے علاوہ جو ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ورثہ میں ملیں اور جن سے ہمارا عشق اور پیار کا تعلق ہے (اس لئے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے وہ دعائیں نکلتی تھیں یہ ہمارا پیار کا تعلق ہے ) وہ پڑھ لینے کے بعد ہم اپنے رب کے حضور اپنی زبان میں دعا کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اور ضرورت کے وقت یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ ایک یوگوسلاوین عربی کی دعائیں پڑھنے کے علاوہ اپنی زبان میں بھی دعا کرے۔ایک انگریز انگریزی میں بھی دعا کرے۔ایک البانین البانین زبان میں بھی دعا کرے۔ایک افریقن جس کی زبان تحریر میں بھی ابھی نہیں آئی لیکن اہل افریقہ اسے بولتے ہیں وہ اپنی زبان میں دعائیں کریں تا کہ وہ ایک قریبی تعلق محسوس کریں اپنے پیدا کرنے والے رب کے ساتھ۔أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جس زبان میں بھی دعا میرے سامنے کی جائے گی اسے میں قبول کروں گا۔شرائط یہ ہیں کہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي دو معنی میں ہے۔قرآن کریم نے اور قرآن کریم کی تفسیر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قبولیتِ دعا کے لئے جو شرائط بیان فرمائی ہیں وہ بھی ایک حکم ہے اس کو قبول کریں۔دعا کو دعا کی شرائط کے ساتھ کریں اور دوسرے یہ کہ کسی قسم کا ظاہری یا باطنی شرک نہیں کرنا۔ایک شخص مشرک ہے اور وہ دعا کرتا ہے خدا سے تو اس سے قبولیت کا وعدہ یہاں نہیں لیکن وہ خالق مالک بھی ہے وہ ان کی بھی بعض دفعہ سن لیتا ہے۔بڑا د یا لو ہے وہ۔لیکن کہا یہ گیا ہے کہ میرے پیار کو حاصل کرنا ہے اگر تو جو شرائط میں نے دعا کے لئے قائم کی ہیں ان کے مطابق دعا کرو۔اور جو اسلام کے احکام ہیں قرآنی احکام ہیں ان کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارو۔