خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 301
خطبات ناصر جلد ہشتم ٣٠١ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۹ء انسانوں کے کسی ایک گروہ کے لئے نہیں۔کسی ایک خطہ ارض کے لئے نہیں اور ہمیں اس طرف توجہ دلائی گئی کہ ماہِ رمضان میں قرآن کریم کے پڑھنے اور اس کے مطالب سیکھنے کی طرف دوسرے دنوں کی نسبت زیادہ توجہ دیا کرو۔اور جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے اس لئے جو ماننے والے ہیں اس حقیقت کو کہ قرآن تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے ان کا یہ فرض ہو جاتا ہے کہ اس عالمگیر ہدایت کی طرف بنی نوع انسان کو ( جو ابھی تک اس سے واقف نہیں ) لانے کے لئے قرآن کریم کے علوم سیکھیں۔گیارھویں ہمیں یہ بات بتائی گئی۔قرآن کریم جس کا ماہ رمضان سے گہرا تعلق ہے ایسے دلائل اپنے اندر رکھتا ہے جو ہدایت پیدا کرتے ہیں۔یعنی یہ تصور اسلام نے نہیں دیا کہ مسلمان ہوتے ہی یا اصلاح نفس کے ابتدائی دور میں ہی انسان ہدایت کے عروج کو ، اس کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔قرآن کریم نے ہمیں یہ ہدایت دی ہے قرآن کریم نے ہمیں یہ علم عطا کیا ہے۔قرآن کریم نے ہمیں اس بات کے لئے ابھارا ہے کہ دیکھو وصلِ الہی اصلی اور آخری انتہائی مقصود ہے اور انسان اور خدا کے درمیان غیر محدود بعد ہے۔وہاں تک پہنچنے کے لئے ایک ہدایت کے بعد دوسری ہدایت کا پانا ضروری ہے۔اس کی رضا کو تم پاؤ گے تمہیں روحانی سرور ملے گا۔تم خدا کے پیارے ہو گے اس حد تک۔لیکن یہ پیار وہ انتہائی پیار تو نہیں ہو گا۔جو تم حاصل کر سکتے ہو اس لئے قرآن کریم میں شروع میں ہی کہہ دیا گیا تھا کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ہدایت کے بعد دوسری ہدایت۔نئی راہیں ہدایت کی جو اور آگے لے جانے والی ہیں۔ایک منزل کے بعد اگلی منزل پر پہنچیں گے پھر ہدایت ملے گی۔یہ تو نہیں تمہاری منزل آگے چلو۔پھر اور راہ دکھا دی۔پھر اور آگے لے گئے۔پس اپنے نفس کے لئے اور دوسروں کی ہدایت کے لئے یہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کی جو یہ صفت ہے کہ وہ ہدایت کے بعد ہدایت دیتا چلا جاتا ہے اس کا ہمیں علم ہو اور اس کے لئے ہماری جد و جہد اور جہاد اور مجاہدہ ہو۔اور بارھویں یہ ہے کہ ہدایت کی نئی راہیں کھولنے والے دلائل ہیں۔دوسرے نئی راہوں کی ضرورت پڑتی ہے نئے زمانوں کے ساتھ۔ہر زمانہ نئے مسائل انسان کے سامنے رکھتا اور نئے علوم قرآنی کا