خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 302
خطبات ناصر جلد هشتم ٣٠٢ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۹ء تقاضا کرتا ہے تو پچھلے دروازے پچھلی راہیں بند ہو جاتی ہیں آگے نہیں چلتیں۔انسان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے انسان کا ساتھ نہیں دے رہی ہوتیں۔نئی راہیں کھلنی چاہیے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہے کہ ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کے ایسے محبوب بندے امت محمدیہ میں موجود رہتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے نئے علوم روحانی سیکھ کر ہدایت کی نئی راہوں کا علم حاصل کر کے زمانہ کے نئے مسائل کو حل کرنے کے سامان پیدا کرتے ہیں۔اور تیرھویں ہمیں یہ بتایا گیا کہ قرآن کریم ایک ایسی عظیم کتاب ہے کہ اس کے ساتھ محض دلائل کا یا تعلیم کا ، ہدایت کا ہی تعلق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرقان بھی اس کو دیا گیا اور اس کے ساتھ الہی نشان بھی ہیں۔پہلے کہا گیا تھا کہ روزے تم پر فرض کئے گئے جس طرح پہلوں پر فرض کئے گئے۔اب چودھویں بات ہمیں یہ بتائی گئی کہ تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ رمضان کے روزے رکھو امر کے صیغہ میں۔پہلے فرضیت بتائی تھی ، اب حکم کا رنگ ہے۔تمہیں حکم ہے کہ رمضان کے روزے رکھو۔اور پندرھویں یہ کہ اگر عارضی وقتی بیماری ہو۔پہلے جس بیماری کا ذکر تھا وہ دائمی تھی جب روزہ رکھنے کی طاقت ہی جاتی رہتی ہے لیکن اب یہ ذکر ہے کہ عارضی طور پر انسان بیمار ہو جاتا ہے مثلاً بہت ساری بیماریاں ہیں ایک کو بطور مثال کے لے لیتے ہیں۔رمضان سے دو چار دن پہلے آٹھ دس دن پہلے اگر کسی نو جوان بالغ کو ٹائیفائیڈ ہو جاتا ہے ڈاکٹر اس کو کہے گا تم روزہ نہیں رکھ سکتے تو اگر وقتی بیماری ہو تو تعداد جو ہے، جتنے چھٹ گئے مثلاً بیماری جو ہے وسط رمضان میں بھی آسکتی ہے شروع میں بھی آسکتی ہے پہلے بھی آسکتی ہے۔کچھ روزے بھی چھڑ واسکتی ہے۔سارے روزے بھی چھڑوا سکتی ہے تو جو تعداد رہ گئی ہے وہ تعداد اور دنوں میں پورا کرو اور تمہیں ثواب رمضان کے روزوں کا ہی ملے گا یہ شان ہے اسلامی تعلیم کی۔اگر وقتی بیماری ہے اور عذر صحیح ہے اور نیت میں اخلاص ہے تو دوسرے وقت میں ماہ رمضان سے باہر جو تم فرض روزے پورے کر رہے ہو گے تمہیں ثواب وہی ملے گا جو رمضان کے دوران روزہ رکھنے والوں کو ثواب ملے گا اور اگر مسافر ہو تب بھی اور دنوں میں تعداد پوری کرنا واجب ہے۔