خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 292
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۹۲ خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۷۹ء کیسے لگے گا ؟ پھر کس رنگ میں ان کو ادا کرنا ہے؟ فرمایا اس کے لئے عظیم اُسوہ کی ضرورت ہے اس واسطے جو عظیم اُسوہ تمہارے لئے بنایا گیا ہے اس اُسوہ کی پیروی کرو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی تمہیں پتا لگ جائے کہ ماں باپ کے حقوق کیا ہیں۔تمہیں علم حاصل ہو جائے گا کہ ان کی ادائیگی کس طرح کی جاسکتی ہے۔تو جہاں تک ماں باپ کا سوال ہے والد، والد میں فرق نہیں کیا گیا۔اب ایک تو بزرگوں کے بچے ہیں ، ایک ایسے بچے ہیں جن کے والد سید عبد القادر جیلانی جیسے ، جن کے والد امام ابوحنیفہ جیسے جن کے والد امام بخاری جیسے، جن کے والد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے ہیں۔پھر بعض والد ہیں جو موحد تو ہیں۔خدا تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں مگر وہ غیر مسلم، ان کا عقیدہ وحدانیت کے متعلق نہ اتنا روشن نہ اتنا حسین نہ اتنا وسیع ، نہ اتنا مؤثر۔ان کی اپنی زندگی میں جتنا مسلمان کا عقیدہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت میں جب وہ معرفت الہی حاصل کر لیتا ہے۔لیکن وہ ہیں مؤخد۔وہ کہتے ہیں خدا ایک ہے مگر اس کی صفات کی واضح شناخت نہیں ، معرفت نہیں رکھتے ، صفات کے جلوے ان کی ذاتی زندگیوں میں ظاہر نہیں ہوتے یہ تو ٹھیک ہے لیکن ہیں مؤحد یہ نمبر دو قسم کے ہو گئے۔پس ایک باپ ہے مؤحد غیر مسلم یہ دوسری قسم کا مؤقد ہے وہ آگے پھر وہ قسمیں بن جاتی ہیں۔ایک تو اس دوسری قسم کا موحد وہ ہے جو خدائے واحد و یگانہ پر ایمان بھی لاتا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بد زبانی نہیں کر رہا اور ایک موحد وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان بھی لاتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدزبانی بھی کر رہا ہے۔یہ بھی کہنے کو مؤخد ہے۔اور ایک وہ باپ ہے جو مؤخد نہیں ہے، مشرک ہے۔تو مشرک باپ بھی ہے ایسا موحد بھی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتا لیکن وہ آپ کے خلاف بولتا بھی نہیں۔ایک ایسا موحد ہے جو کہتا ہے خدائے واحد و یگانہ پر میں ایمان بھی لا یا لیکن معرفتِ الہی نہ ہونے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی بھی کرنے والا ہے۔