خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 289 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 289

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۸۹ خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۷۹ء سورۂ عنکبوت کی جو آیت ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نمبر ا۔اپنے والدین سے اچھا سلوک کرو ، محسن سلوک کرو۔حُسنا کا لفظ ہے۔اپنے والدین کی اطاعت کرنے کا حکم ہے۔کامل اطاعت ! سوائے ایک استثناء کے۔یہ استثناء اپنے معنی کے لحاظ سے بڑا ہے لیکن اس کا بنیادی نقطہ ایک ہی ہے۔تیسرے یہ کہ اگر ماں یا باپ یا دونوں یہ حکم دیں کہ خدا کا شریک بناؤ تم تو اس بات میں ان کی اطاعت نہیں کرنی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کوئی ایسا حکم نہ دیں کہ خدا کا شریک بناؤ تو ایسے ہرحکم میں ان کی اطاعت کرنی ہے تو حید پر قائم رہتے ہوئے۔ایک اور بڑا حسین، بڑا پیارا مضمون اس جگہ بیان ہوا ہے۔مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ شرک کے خلاف یہ ابتدائی بنیادی تعلیم ہے۔مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم یہ ابتدائی بنیادی تعلیم ہے اس پر اسلام نے عمارت بڑی حسین کھڑی کی ہے جو شرک کو انسان کے ذہنوں سے ملیا میٹ کر دیتی ہے۔اتنی حسین عمارت توحید باری تعالیٰ سے تعلق رکھنے والی دلیل یہ دی ہے کہ چونکہ بت یعنی شریک باری کے وجود کے متعلق مجھے کوئی علم نہیں۔اس واسطے تم ان کی بات نہ مانو Agnostics جو کہلاتے ہیں کہتے ہیں کہ چونکہ ہمیں خدا کا پتا نہیں (وہ دوسری طرف لے گئے ہیں نا ) اس واسطے ہم خدا کو نہیں مانتے۔یہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا۔سویڈن میں ایک بڑا چوٹی کا محقق ہے اس سے میں نے پوچھا کہ تم بھی عیسائی ہو؟ کس فرقے سے تعلق ہے؟ تو کہنے لگا۔میں عیسائی ویسائی کچھ نہیں۔میں Agnostic ہوں۔ایک تو ایسے دھر یہ ہیں جو کہتے ہیں ہم خدا کو مانتے ہی نہیں۔خدا ہے نہیں۔ہمیں علم ہے کہ خدا نہیں ہے۔جو ہے تو غلط مگر ان کا دعویٰ یہ ہے۔ایک وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ چونکہ ہمیں ذاتی علم نہیں اس واسطے ہم نہیں مانتے۔وحدانیت باری کا سوال تھا۔میں نے بڑا سخت اس کو جواب دیا اس کا۔میں نے کہا مجھے یہ بتاؤ کہ تمہارے والد کا بھی یہی مذہب تھا ؟ کہنے لگا ہاں۔میرے والد بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے۔میں نے کہا تمہارے دادا صاحب کا؟ کہنے لگے ان کا بھی یہی عقیدہ تھا میں نے کہا تمہارے پڑدادا صاحب کا ؟ مسکرایا۔کہنے لگا میں تو اپنے پڑ دادا کو جانتا ہی نہیں۔میں نے کہا چونکہ تم اپنے پڑدادا کو جانتے نہیں اس سے یہ نتیجہ تو نہیں نکالتے کہ تمہارا کوئی پڑدادا تھا ہی نہیں۔تم کہتے ہو چونکہ میں خدا کو نہیں جانتا اس لئے میں خدا کو مانتاہی