خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 279
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۷۹ خطبہ جمعہ ۱۳ جولائی ۱۹۷۹ء عزت کا جو یہ مقام نوع انسانی کو دیا گیا۔اور اخوت و مساوات کے یہ بندھن جن میں بنی نوع انسان کو باندھا گیا۔یہ اسلام کی پہلی بنیادی تعلیم ہے۔اس کے بعد پھر بیبیوں ،سینکڑوں اور باتیں مضمون کے اندر آتی جائیں گی۔لیکن اس وقت میں صرف ایک چیز کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ چونکہ سارے انسان برابر ہیں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس لئے اسلامی تعلیم یہ اعلان کرتی ہے کہ زمین و آسمان کی ہر شے بلا استثناء ہر انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے۔قرآن کریم میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ زمین و آسمان کی ہر شے بلا استثناء ایک مسلمان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے اور غیر مسلم کی خدمت کے لئے پیدا نہیں کی گئی۔یہ اعلان کیا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر شے بلا استثناء ہر انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے۔میں پہلے بھی سمجھا چکا ہوں اس کی وضاحت کے لئے یہاں بھی اب بتاؤں گا کہ جو قو تیں اور استعدادیں ( جن کو انگریزی میں Faculties کہتے ہیں ) بھی انسان کو ملیں ، فرد فرد کو ملیں ، مختلف شکلوں میں ملیں ، فرق فرق سے ملیں ، بہر حال وہ تمام قوتیں اور استعداد میں جو انسانی قوتیں اور استعداد میں کہلائی جاسکتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں کہیں اور سے تو نہیں لا یا کوئی فردا اور خدا تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ وہ قوتیں اور استعد میں جو اس نے کسی فرد واحد کو دی ہیں ان کی کامل نشو و نما کے سامان پیدا کئے جائیں اور جس وقت ان کی کامل نشو و نما ہو جائے تو ان قوتوں اور صلاحیتوں کو اپنے کمال پر رکھنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہر فرد واحد کو مہیا ہوں۔اس میں مسلم اور غیر مسلم کا تو کوئی فرق نہیں۔قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ اگر ایک مسلمان کے گھر میں ایک ذہین بچہ پیدا ہو اور تھیوریٹیکل فزکس کا دماغ اور صلاحیت اس کو عطا کی گئی ہو اور ڈاکٹر سلام بنے کی وہ قابلیت رکھتا ہو کہ چوٹی کے سائنسدانوں کے دلوں میں بھی اس شخص کی عزت ہو تو اس مسلمان کو تو جس چیز کی ضرورت ہے اسے دو لیکن اگر ایک دھر یہ ایک کمیونسٹ گھرانہ، ایک ایسا گھرانہ جن کی طرف سے یہ اعلان ہوا ہے کہ ہم زمین سے خدا کے نام اور آسمانوں سے اس کے وجود کو مٹادیں گے۔ان کے گھروں میں کوئی ایسا بچہ پیدا ہو کہ جس کو خدا تعالیٰ نے ذہنی