خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 9
خطبات ناصر جلد ہشتم و خطبہ جمعہ ۱۲ / جنوری ۱۹۷۹ء وکیل وہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کے سپر ددوسرے کے کام کر دیئے جاتے ہیں۔(وَفِي الْوِكَالَةِ مَعْنَى السَّيْطَرَةِ وَالتَّصَرُّف) اور وکالت کے معنے میں جبر اور تصرف کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے فَمَنْ جَعَلَهُ السُّلْطَانُ أَوِ الْمَلِكُ وَكِيلًا لَّهُ عَلَى بِلَادِهِ أَوْ مَزارِعِه پس اگر کوئی بادشاہ کسی شخص کو اپنا نمائندہ بنادے، گورنر بنادے اپنے کسی صوبے پر ، یا اپنی زمینوں کے کام اس کے سپر دکرے تو بادشاہ کی طرف سے يَكُونُ مَأْذُونَا بِالتَّصَرُّفِ عَنْهُ فِيْهَا تو بادشاہ کی طرف سے اس کو اجازت ہوگی کہ جو شاہی اقتدار لوگوں پر جبر کرتا ہے ان غلطیوں کے اور کوتاہیوں کے نتیجہ میں، بادشاہ کا وکیل بھی ویسا کرے بادشاہ کی طرف سے اس کی نمائندگی میں۔وَالشَّيْطَرَةِ عَلَى أَهْلِهَا لیکن وَالرَّسُولُ مُبَلِّغُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى رسول خدا کا وکیل نہیں کہ خدا کی طرف سے لوگوں کو سزا دے۔سزا دینا یا جزا دینا اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے۔رسول مُبَلِّغُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مبلغ بنا کے بھیجا گیا ہے جسے حکم ہے کہ لوگوں کو وہ باتیں پہنچا دو جوخدا تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو پہنچانے کے لئے نازل ہوئی ہیں۔وہ يَذْكُرُ النَّاسَ لوگوں کو وعظ کرتا ہے وَيُعَلِّمُهُمْ ان کے علم میں وہ باتیں لاتا ہے ، وَيُبَشِّرُهُمْ ان کو بشارتیں دیتا ہے کہ اگر تم اس ہدایت پر عمل کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے انعام پاؤ گے، وَيُنْذِرُهُمْ اور ان کو انذار کرتا ہے کہ اگر تم ان باتوں سے اعراض کرو گے تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا اور اس کی گرفت کے اندر تم آؤ گے۔وَيُقِيمُ دِيْنَ اللہ اور اللہ تعالیٰ کے دین کو ان میں اس وعظ ونصیحت اور اس تعلیم اور اس تبشیر اور اس انذار کے نتیجہ میں وہ قائم کرتا ہے۔هذه وظيفته یہ ہے اس کا کام۔وَلَيْسَ وَكِيلًا عَنْ ربه و مرسله وہ رسول بنا کے بھیجنے والے اللہ کی طرف سے اس کا نمائندہ نہیں اس معنی میں کہ خدا کی طرف سے وہ جزا اور سزا دینے کا مالک بن جائے ، رسول کا یہ کام نہیں ہے۔وَلَا يُعْطَى القدرة ( انہوں نے بڑی عجیب عقلی دلیل یہاں دی ہے ) اگر رسول خدا کی طرف سے جزا وسزا دینے کے لئے نمائندہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزا سزا دینے کی قدرت بھی اسے عطا ہوتی لیکن ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ ساری مکی زندگی میں آپ نے ایک مظلوم کی سی زندگی گزاری۔وَ لا يُعطى الْقُدْرَةَ عَلَى التَّصَرُّفِ فِي عِبَادِهِ حَتَّى يُجْبِرَهُمْ عَلَى الْإِيْمَانِ إِجْبَارًا وَيُكْرِهَهُمْ عَلَيْهِ