خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 231
خطبات ناصر جلد هشتم ۲۳۱ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء گھر جا کے شاید شیطان وسوسہ ڈالے کہ پہلی بیوی کے متعلق پھر کیا کہتا ہے اسلام۔قرآن کریم میں ہے یہ کہ دوسری بیوی کرنے سے پہلے، پہلی بیوی سے مشورہ کرلو۔یہ قرآن کریم کی آیت کی تفصیل بیان کی میں نے اس کے سامنے۔میں نے کہا کہ وہ کہے گا کہ میری فلاں فلاں ضرورت ہے مثلاً ہیں سال ساتھ رہا اس کے۔اس کے تعلقات۔پیار ہے بیوی کے ساتھ۔وہ کہے گا میں سال تمہارے ساتھ رہا ہوں اب یہ مجھے مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، یہ میری Problem ہے۔اگر تم کہو تو میں دوسری شادی کرلوں۔اس کے دو جواب ہوں گے یا وہ کہے گی کہ میں سمجھ گئی تمہارا مسئلہ اور تمہاری ضرورت حقہ ہے کر لو۔پھر بھی نہ تمہیں اعتراض کوئی نہ مجھے کوئی اعتراض۔یا وہ یہ کہے گی کہ میں تمہارے مسئلہ کو صحیح نہیں سمجھتی اور تمہیں چھوڑنا بھی نہیں چاہتی۔میں تمہارے ساتھ رہوں گی چاہے مجھے سمجھ آئے نہ آئے تب بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں یا وہ کہے گی کہ میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔تو قرآن کریم خاوند کو کہتا ہے کہ اس کے سارے حقوق ادا کرو اور اس کو تم علیحدہ کر دو۔پھر بھی تعدد ازدواج نہیں ہوگی۔ایک جگہ امریکہ کی ایک مجلس میں احمدیوں کے ساتھ بہت سارے عیسائی بھی تھے یہی اعتراض کر دیا تعدد ازدواج کا تو ہمارے مبلغ یا احمدی جواب دینے لگے تو ایک امریکن عورت عیسائی کہنے لگی نہیں نہیں آپ ٹھہریں میں جواب دوں گی۔کہنے لگی تم تو بالکل ہی ناسمجھ ہو۔زندگی میں ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ ایک شخص کو دوسری شادی کرنی پڑتی ہے۔کہنے لگی مجھے دیکھو۔میرے باپ نے دوشادیاں کیں اور اسے کرنی چاہئیں تھیں۔کہنے لگی شادی کی پھر بچے پیدا ہوئے۔میں بھی ایک لڑکی ہوں اپنی پہلی ماں سے۔پھر ایک وقت گزرنے کے بعد میری ماں ہوگئی پاگل۔تو دو صورتیں تھی یا وہ اس کو طلاق دے دیتا اور وہ خراب ہوتی رہتی اور دوسری شادی کر لیتا اس کی بجائے ایک ہی رہتی اور یا وہ اس کو اپنے پاس رکھتا اور دوسری شادی کرتا۔اس نے دوسری شادی کی اب وہ گھر میں ہے۔نئی بیوی بھی اس کا خیال رکھتی ہے۔اس کا ہم علاج کرتے ہیں۔بڑا خوش رکھتے ہیں کوئی تکلیف اسے نہیں۔بہت ساری تکلیفیں اس کو اٹھانی پڑتیں اگر دوشادیوں کی اجازت نہ ہوتی۔تو اس نے یعنی عیسائی عورت نے معترض کو اسلام کی طرف سے یہ