خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 229
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۲۹ خطبہ جمعہ ۲۲ جون ۱۹۷۹ء میں نے کہا جس سے میں تجارت کرنا چاہتا ہوں وہ تو کہتا ہے میں بغیر حساب کے دوں گا۔میں بارہ کے اوپر کیسے راضی ہو جاؤں؟ اس واسطے مجھے کرنے دیں اپنا کام۔تو یہ دیکھ لو آپ ہی بغیر حساب کے دیا کہ نہیں۔ان کو بھی پتا نہیں لگتا۔غیر ملکوں سے۔غانا میں ہمارے لئے مسئلہ اور بڑھ گیا۔میں نے پہلے بھی بتایا آپ کو کہ ڈاکٹر اپنی سمجھ کے مطابق نسخہ لکھ سکتا ہے۔اپنی سمجھ کے مطابق تشخیص بھی کر سکتا ہے نسخہ بھی لکھ سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ تشخیص صحیح ہو۔ضروری نہیں کہ نسخہ صحیح ہو۔اگر تشخیص صحیح ہو اور نسخہ صحیح ہو تو اس نے تشخیص کر دی اور نسخہ لکھ دیا لیکن کوئی ڈاکٹر شفا نہیں دے سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور یہ بازار میں بکتی نہیں۔اس واسطے جو ہمارے مقابلے میں کروڑوں روپے خرچ کر دیے تھے جنہوں نے ابتدا میں پہلے سال بڑے بڑے محلات بنا دیئے جن کو ہسپتال انہوں نے کہا۔بہت بڑی شاندار عمارتیں۔ان کے پہلو میں ہم نے وہ خونچہ، یہ وہ لکڑی کا ایک ڈبہ سا بنا دیا۔ان کو کہا کام کرو اور غیر ممالک کے (Millianaires) غانا میں آجاتے ہیں ہمارے ہسپتال میں سوسو اپنے ساتھ نوکر لے کے۔وہاں یہی طریقہ ہے۔ہمیں مصیبت ڈال دیتے ہیں کہ ان کو ٹھہراؤ۔انتظام کرو ان کا اور دے جاتے ہیں۔آپریشن کروانا ہے جو ان سے کہیں وہ فیس دے دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے اس واسطے سارے ویسٹ افریقہ میں شہرت ہوگئی ہے ہمارے ڈاکٹروں کی۔غانا کے ایک افسر نے عیسائی نے اور کوئی اعتراض نہ کیا اس کو یہ اعتراض سوجھا اس نے کہا ہم تو تمہارا ہسپتال بند کر دیں گے تم غانین کا علاج نہیں کرتے اور جو غیر ملکی ہیں ان کے علاج کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہو۔یہ اعتراض بنالیا خیر وہ تو پھر سمجھ آگئی اُن کو کہ ان کا بھی کرتے ہیں ان کا بھی کرتے ہیں۔جو مریض آئے گا ان کے پاس بہر حال اس کا علاج کرنا ہے۔یہ تو نہیں کہ بعض کا کرے گا اور بعض کا نہیں کرے گا۔تو خدا نے وعدے دیئے ہیں بے شمار وہ پورے کر رہا ہے۔کوئی احمق ہو گا جو کہے کہ خدا نے وعدہ ہم سے کیا تھا اور پورانہیں کیا۔بعض تو اتنے جلدی وعدے پورے کئے ہیں پہلی قو میں تو اپنے دشمنوں کے متعلق صدیوں انتظار کرتی رہیں اور کچھ نہیں بنا ان کا اور آپ کو تو بعض ایسے تھے وعدے کہ چار سال انتظار نہیں کرنا پڑا۔دنیا جہان کو آپ کے لئے الٹا کے رکھ دیا خدا نے اور کام کرنا ہے۔