خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 7
خطبات ناصر جلد هشتم خطبہ جمعہ ۱۲ جنوری ۱۹۷۹ء کے شروع میں "وَ كَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ “ کا ذکر تھا۔پس فرمایا کہ میں تمہارا محافظ نہیں اس معنی میں کہ اس تکذیب سے تمہیں روکوں اور مجبور کروں تمہیں (تمہاری کراہت کے باوجود ) کہ تم اس کی و، تصدیق کا ، اس پر ایمان لانے کا اعلان کرو۔اِنَّمَا أَنَا مُندر میں محض ہوشیار کرنے والا ، تنبیہ کرنے والا، انذار کرنے والا ہوں۔وَ قَدْ خَرَجْتُ مِنَ الْعُهْدَةِ حَيْثُ أَخْبَرْتُكُمْ بِمَا سَتَرَوْنَةُ اور جو میری ذمہ داری ہے، جس کام کے لئے میں کھڑا کیا گیا ہوں، جس کا میں مکلف ہوں ، اس سے میں بری ہو جاتا ہوں جب میں نے تمہیں کھول کر بتادیا (أَخْبَرْتُكُمْ ) کہ اگر تم تکذیب کرو گے اس صداقت کی تو خدا تعالیٰ کا غضب تم پر بھڑ کے گا اور جو میں انذاری باتیں بیان کر رہا ہوں سَتَرَوْنَه تم خود دیکھ لو گے کہ جو میں کہتا ہوں وہ درست ہے کہ تکذیب کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ تم سے مؤاخذہ کرے گا۔امام رازی اس کے متعلق لکھتے ہیں۔لَسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ أَيْ لَسْتُ عَلَيْكُمْ بِحَافِظٍ حَتَّى أَجَازِيَكُمْ عَلَى تَكْذِيبِكُمْ 66 وَاغْرَاضِكُمْ عَنْ قَبُوْلِ الدَّلَائِلِ “ میں تم پر وکیل نہیں اس معنی میں کہ میں تمہارا محافظ بنایا گیا تا کہ میں تمہیں سزا دوں اور مؤاخذہ کروں تمہارے تکذیب کرنے پر اور جو دلائل تمہارے سامنے کھول کر بیان کئے گئے ہیں ( جس کے لئے مجھے بھیجا گیا ہے ) ان سے اعراض کرنے پر۔تو عقوبت اور سزا دینا، یہ میرا کام نہیں ہے۔اِنَّمَا أَنَا مُنْذِرُ میں صرف ہوشیار کرنے والا ہوں۔وَاللهُ هُوَ الْمَجَازِى لَكُمْ بِأَعْمَالِكُمْ اور مجازات اور مؤاخذہ جو ہے یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے، یہ میرا کام نہیں ہے۔تفسیر روح المعانی میں وکیل “ کے معنے یہ کئے گئے ہیں کہ (لَسْتُ عَلَيْكُمْ ہوگیلٍ ) ان بول کہ میں موکل بنا کر نہیں بھیجا گیا تمہاری طرف۔فَوَّضَ أَمْرَكُمْ إِلَی کہ تمہارے کام تمہاری طرف سے میں کروں یہ اس کے لغوی معنے ہیں یعنی کہ جو تم نے کام کرنا تھا وہ تم نہ کرو اور میں کروں۔تم نے کام کرنا تھا دلائل سن کے ، سوچ کے سمجھ کے ان کو قبول کر کے۔ان کی برکات سے حصہ لینا، یہ تمہارا کام تھا۔میرے سپرد یہ نہیں کیا گیا کہ یہ کام میں زبر دستی تم سے کراؤں۔یہ