خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 169
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۶۹ خطبہ جمعہ ۲۷ اپریل ۱۹۷۹ء اسی نے یہ منصوبہ بنایا نوع انسان کو پیدا کر کے کہ انسان بحیثیت نوع کے اس کی صفات کے مظہر بنیں اور ہر فرد واحد انسانوں میں سے اپنی اپنی قوت اور طاقت اور صلاحیت اور استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنی صفات پہ چڑھائے لیکن یہ رنگ جو انسان اپنی صفات پہ چڑھاتا ہے اس سے انسان خدا نہیں بن جاتا۔خدا تعالیٰ کی روشنی کا خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنتا ہے۔اس کے متعلق شاید چند فقرے میں بعد میں بھی کہوں، اس کی وضاحت کرنے کے لئے۔بہر حال ہمارا خدا جس پر ہم ایمان لائے وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے۔کوئی ایسی صفت جو اللہ میں ہونی چاہیے نہیں کہ اس میں نہ ہو۔ہر صفت حسنہ اس میں پائی جاتی ہے اور ہر قسم کے عیب اور نقص اور کمزوری سے وہ پاک ہے۔اسی واسطے ہم اسکی تسبیح کرتے اور اسکی قدوسیت کا اعلان کرتے ہیں۔ہر شے کے کرنے پر وہ قادر ہے جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے کر سکتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اگر اللہ اُسے کرنا چاہے اسے روک نہیں سکتی اور دنیا کا کوئی منصو بہ اگر اللہ نہ کرنا چاہے اس سے کوئی کروا نہیں سکتا۔حکم اُسی کا چلتا ہے۔بادشاہت اُسی کی ہے۔انسان کو اُسی نے آزادی دی اپنے دائرہ کے اندر لیکن ہر انسان کا وجود نوے(۹۰) فیصد سے بھی زیادہ اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لحاظ سے آزاد نہیں بلکہ اس کے حکم کے تابع ہے۔دل کی حرکت ہے۔آپ اپنی مرضی سے دل کی حرکت میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔قانونِ الہی آپ کے دلوں کی حرکت پر متصرف، یہ جو لوتھڑا ہمارے سینے کے اندر دل کہلاتا ہے اور حرکت کرتا ہے یہ خدا تعالیٰ کے قانون کا تابع ہے اس میں انسان آزاد نہیں ہے پھر دورانِ خون ہے۔بے شمار نظامِ جسمانی ہیں۔کہنے والوں نے یہ کہا اور سوچنے والوں نے اسے صحیح سمجھا کہ ایک انسان کا وجود بھی سارے جہانوں کی طرح بہت عظیم بڑی وسعتوں والا ہے۔ایک نظام کے بعد دوسرا نظام انسان کے علم میں آیا۔جسم میں پانی کا نظام۔ہم پانی پیتے ہیں۔پانی پر ہماری زندگی کا بہت حد تک مدار ہے۔پانی ہمارے جسم کے مختلف حصوں میں جاتا ہے۔پانی مختلف حصوں سے نکل کے خارج ہوتا ہے ہمارے جسم سے اس کو کہتے ہیں، نظامِ پانی (Water Metabolism) ایک دنیا ہے ایک