خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 155 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 155

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۵۵ خطبه جمعه ۱۷۲۰ پریل ۱۹۷۹ء عذاب دینا یا ڈھیل دینا میرا کام نہیں۔تم اپنی گمراہیوں میں بڑھتے چلے جاؤ اور خدا اپنی نرمی کے جلوے تم پر ظاہر کرتا چلا جائے ، یہ اس کی مرضی ہے تم جانو اور تمہارا خدا۔میرے اختیار میں نہیں ہے یہ۔ان معاملات میں حکم صادر کرنا اس بالا ہستی کا کام ہے اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلهِ حکم اسی کا چلتا ہے، جو صاحب حکم بھی ہے اور صاحب حکمت بھی ہے۔اس کے سارے کام حکمت سے ہیں حکمت سے خالی نہیں ہوتے۔اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ابتدائی دور میں اپنی گرفت میں جلدی کرتا تو عکرمہ اور ان کے ایک سو چالیس کے قریب ساتھی جنہوں نے بعد میں تو بہ کی اور اسلام میں داخل ہوئے اور جنگ یرموک کے موقع پر جب انہیں ان کے دوست خالد بن ولید نے اس طرف توجہ دلائی کہ تم بڑے گناہگار ہو تم نے خدا کے رسول کے خلاف کارروائیاں کیں، ان کو ایذاء پہنچایا، مسلمانوں کے قتل کے منصوبے بنائے ،مسلمانوں کو دیکھ دیئے ، بہتوں کو شہید کیا۔ایسے داغ تمہارے چہرہ پر لگے ہوئے ہیں کہ سوائے تمہارے خون کے کوئی اور چیز انہیں دھو نہیں سکتی اور آج موقع ہے، آج دھو لو اپنے رھے۔چنانچہ تین لاکھ فوج پر ان کم و بیش ایک سو چالیس مکہ کے رؤساء کے بچوں نے حملہ کر دیا اور ان میں سے ہر ایک نے میدانِ جنگ میں جامِ شہادت پیا اور اس طرح پر اپنے چہروں سے نہایت بھیانک دھبے دھونے میں کامیاب ہو گئے۔تو اللہ تعالیٰ اگر ان کو ڈھیل نہ دیتا تو تو بہ اور رجوع الی اللہ کا یہ نظارہ تو دنیا نہ دیکھتی۔مکی زندگی کے تیرہ سال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو انتہائی اذیتیں دی گئیں، دکھ پہنچائے گئے لیکن خدا تعالیٰ نے نرمی کا سلوک کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی خدا سے چاہا کہ وہ نرمی کا سلوک کرے جیسا کہ طائف کے واقعہ میں آتا ہے کہ اے خدا یہ پہچانتے نہیں مجھے، ان کے ساتھ ڈھیل کا معاملہ کر۔بہر حال وہ پکڑتا بھی ہے جب چاہے اس کی گرفت بھی بڑی سخت ہے اس کی قہری تجلی کا تصور بھی انسان کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے لیکن وہ ڈھیل بھی دیتا ہے۔وہ بڑا رحم کرنے والا بھی ہے وہ موقع دیتا ہے کہ انسان اپنی اصلاح کرے۔تو ہمیں چھٹی بات یہاں یہ نظر آتی ہے کہ تمہیں عذاب دینا یا ڈھیل دینا میرے اختیار میں نہیں، یہ اللہ کا کام ہے۔وہ صاحب حکم ہے ( الحُكْمُ لِلَّهِ )، صاحب اختیار ہے، مالک ہے، کوئی