خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 143 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 143

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۴۳ خطبه جمعه ۱۳ را پریل ۱۹۷۹ء انسانی معاشرہ میں مجموعی طور پر انسانوں کو ادا کرنی پڑتی ہیں بعض ذمہ داریاں ہیں اس کے لئے بڑی کثیف اور کرخت قسم کی طبیعتوں کی ضرورت ہے۔بعض ذمہ داریاں ہیں جن کی ادائیگی کے لئے بہت لطیف طبائع کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کے پیش نظر انسان انسان کی قوتوں اور استعدادوں میں فرق پیدا کیا اور مختلف الاقسام طبائع اس نے پیدا کر دیں کیونکہ ذمہ داریاں مختلف تھیں۔بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں کہ جن کے نتیجہ میں انسان جو ہے وہ زیادہ گناہ کی طرف مائل ہو جا تا ہے۔اگر اس کے لئے پناہ کا کوئی راستہ، بچاؤ کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے رحمت کے سامان نہ کرتا تو وہ کہ سکتا تھا کہ اے میرے خدا! تو نے مجھے اپنی مصلحتوں کے نتیجے میں اس قسم کے کثیف قومی دے دیئے اگر میں ان کے نتیجہ میں کوتاہی کروں کہاں جاؤں تیرے در پر نہ آؤں تو۔تو اس وجہ سے بھی کمزوری پیدا ہوتی ہے، گناہ پیدا ہوتا ہے لغزش ہوتی ہے ارتکاب تلف حقوق ہوتا ہے تو اس کے لئے یہ دروازہ کھلا رکھا خدا تعالیٰ نے۔ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ الله پھر وہ تو بہ کرتا ہے اور ندامت کے جذبات اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔تو باوجود اس کے کہ اس قسم کی طبیعی کمزوری کے نتیجہ میں بار بار وہ کمزوری کی طرف جھکے گا جب بھی جھکے گا اور اس کے بعد اس کے دل میں ندامت پیدا ہوگی۔وہ ہمیشہ ہی بار بار خدا تعالیٰ کو غفور اور رحیم پائے گا۔تو کمزوریوں کے دروازے بھی اس کے اوپر کھلے ہیں بڑے لیکن خدا تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رحمت کے دروازے بھی بڑے کھلے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کی تفسیر میں جو باتیں فرماتے ہیں ان میں سے دو ایک یہ ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ جیسے لغزش اور گناہ نفوس ناقصہ کا خاصہ ہے۔۔۔خدا کا ازلی اور ابدی خاصہ مغفرت و رحم ہے۔یعنی جب کبھی کوئی بشر بر وقت صد در لغزش و گناه به ندامت و تو به خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ خدا کے نزدیک اس قابل ہو جاتا ہے کہ رحمت اور مغفرت کے ساتھ خدا اس کی طرف رجوع کرے۔۔۔۔۔یہ خدائے تعالیٰ کی ذات میں خاصہ دائمی ہے یعنی ایک ہزار بار بھی وہ غلطی اور گناہ کرتا اور ایک ہزار بار اگر اس کے دل میں ندامت پیدا ہوتی ہے اور خدا کی طرف وہ رجوع کرتا ہے تو ایک ہزار بار وہ بخشا جاتا اور خدا کی مغفرت کے