خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 129

خطبات ناصر جلد هشتم دین میں جبر وا کراہ جائز نہیں“۔استاد امام شیخ محمد عبدہ نے فرمایا کہ ۱۲۹ خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۷۹ء عام مذاہب میں خصوصاً عیسائیوں میں یہ دستور تھا کہ وہ لوگوں کو جبراً اپنے مذہب میں داخل کرتے اور یہ مسئلہ دراصل دین کی نسبت سیاست سے زیادہ تعلق رکھتا ہے کیونکہ ایمان جو دین کا اصل اور جو ہر ہے اس کے معنی ہیں نفس کا جھک جانا اور فرمانبردار ہو جانا۔اور ناممکن ہے کہ یہ جھکنا اور یہ فرمانبرداری جبر اور زبردستی سے پیدا ہو۔یہ صرف وضاحت اور دلیل سے ہی پیدا ہو سکتی ہے۔اس لئے جب اکراه و جبر کی نفی فرمائی تو فرما یا قد تبين الرُّشْدُ مِنَ الغَى کہ ظاہر ہو چکا ہے کہ اس دین میں ہدایت فلاح اور نور کی طرف پیش قدمی ہے اور جو مذاہب اس کے خلاف ہیں وہ گمراہی اور بے راہ روی میں مبتلا ہیں۔“ یہ چند ایک مثالیں میں نے اس وقت دینی تھیں۔اسلام نے بڑی وضاحت سے دلائل دے کر سمجھا کر حقیقت کھول کر پوری طرح واضح کر دیا ہے کہ اس عظیم دین میں اس کامل دین میں اس مکمل دین میں اس حسین تر دین میں بنی نوع انسان پر عظیم احسان کرنے کی طاقت رکھنے والے دین نے دین کے معاملہ میں جبر کو جائز قرار نہیں دیا۔نہ مذہب کے معاملہ میں جائز قرار دیا نہ کسی مسلمان کے ذہن میں یہ بات پیدا ہونے دی کہ اطاعت حقیقی جبر سے بھی کروائی جاسکتی ہے یعنی ہماری عقلوں کو بھی یہ باور کروایا کھول کے بیان کیا ایک لحظہ کے لئے بھی کوئی عقلمند سوچ نہیں سکتا کہ جبراً حقیقی اطاعت کروائی جاسکتی ہے۔جبراً ظاہری اطاعت کا تو امکان ہے لیکن جبراً حقیقی اطاعت جب دل میں بشاشت پیدا ہو جب سینوں میں شرح پیدا ہوفراخی اور وسعت پیدا ہو جب روح میں نور پیدا ہو جب انسان کے وجود میں خدا تعالیٰ کا پیار سمندر کی لہروں کی طرح موجزن ہو جائے۔یہ جبر سے ہو سکتا ہے؟ تو ہمیں جب کہا خدا نے کہ جب یہ ناممکن ہے کہ جبر اور اکراہ اور زور کے ساتھ اور طاقت کے ذریعہ سے کسی کے دل میں تبدیلی پیدا کی جائے تو ہر وہ ازم یا ہر وہ مذہب جو اس کے برعکس خیال کرتا ہے وہ خدا کی مرضی کے خلاف باتیں کر رہا ہے۔اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی۔