خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 120
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۲۰ خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۷۹ء کرتے ہیں دینِ اسلام سے لیکن مجبور کرنا کہ اس کے برعکس تم اپنی محبت کا اعلان کرو اس پر بعض اور آیات قرآنی بھی روشنی ڈالتی ہیں سورۃ نحل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ ج إيْمَانِةِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَبِنٌ بِالْإِيمَانِ وَلَكِنْ فَمَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِم غَضَبٌ مِّنَ اللهِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمُ (النحل : ۱۰۷) جو لوگ بھی اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا انکار کریں سوائے ان کے جنہیں کفر پر مجبور کیا گیا ہولیکن ان کے دل ایمان پر مطمئن ہوں وہ گرفت میں نہ آئیں گے (جن کا دل مطمئن ہے ) ہاں وہ جنہوں نے اپنا سینہ کفر کے لئے کھول دیا ہو ان پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا غضب نازل ہوگا اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب مقدر ہے اور پھر فرماتا ہے اس کے بعد اور ایسا اس سبب سے ہوگا، اگلی آیت میں ہے کہ انہوں نے اس ور لی زندگی سے محبت کر کے اسے آخرت پر مقدم کر لیا اور نیز اس وجہ سے کہ اللہ کفر اختیار کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا تو ایک شخص کفر کی راہوں کو اختیار کرتا ہے۔ایک شخص دنیا سے اندھی محبت رکھتا ہے اور دنیا کو اپنے پیارے رب کے لئے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ایک شخص مطمن بالكفر ہے اور شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدرًا اس کا اس کے اوپر اطلاق ہوتا ہے اس کے متعلق خدا یہ اعلان کرتا ہے کہ عَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللهِ خدا کا غضب ایسے لوگوں کے اوپر نازل ہوتا ہے اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے عذاب عظیم مقدر کیا یعنی جو شخص اپنی مرضی سے دنیا سے پیار کرنے والا کفر کی راہوں کو اختیار کرنے والا اور کفر پر شرح صدر رکھنے والا ہے یہ تصویر کھینچ دی نا اس آیت نے اب اگر کوئی شخص جبراً اس کے منہ سے یہ کہلوائے کہ میں ایمان لا یا یا اگر کوئی جبراً اس شخص سے نماز پڑھوائے تو وہ تو اسے یہ کہے گا جبر کرنے والا کہ خدا تجھے جنت میں لے کر جائے گالیکن خدا کی وحی اور خدا کا کلام اسے یہ سنا رہا ہوگا فَعَلیهِم غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عظیم کہ یہ جو کہتے ہیں کرتے رہیں لیکن میرا فیصلہ یہ ہے کہ تیرے اوپر میرا غضب نازل ہوگا اور تیرے لئے میں نے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے۔اس سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ لا إِكْرَاهَ في الدین کے اور قد تبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى کے معنی کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے کہ جب دل میں ایمان نہیں تو جبر جو صرف ظاہر پر کیا جاسکتا ہے وہ بے نتیجہ ہے اور کسی کا یہ خیال کرنا کہ اس سے