خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 110
خطبات ناصر جلد ہشتم 11+ خطبه جمعه ۲۳ / مارچ ۱۹۷۹ء کے لئے یقیناً کئی نشان نشان ہیں۔وہ عظمند (اولوا الالباب ) جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے بارہ میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب !تو نے اس عالم کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا۔تو ایسے بے مقصد کام کرنے سے پاک ہے۔پس تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا اور ہماری زندگی کو بے مقصد بننے سے بچالے۔اے ہمارے رب جسے تو آگ میں داخل کرے گا اسے تو تو نے یقیناً ذلیل کر دیا اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا۔اے ہمارے رب ہم نے یقیناً ایک ایسے پکارنے والے کی آواز جو ایمان دینے کے لئے بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ سنی ہے پس ہم ایمان لے آئے اس لئے اے ہمارے رب ! تو ہمارے قصور معاف کر اور ہماری بد یاں ہم سے مٹا دے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ ملا کر وفات دے۔اور اے ہمارے رب ! ہمیں وہ کچھ دے جس کا تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر ہم سے وعدہ کیا ہے اور قیامت کے دن ہمیں ذلیل نہ کرنا تو اپنے وعدہ کے خلاف ہر گز نہیں کرتا۔( ہم سے گناہ ہو جاتے ہیں ہمیں گناہوں سے بچا ) چنانچہ ان کے رب نے یہ کہتے ہوئے ان کی دعا سن لی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کروں گا۔تم ایک دوسرے سے تعلق رکھنے والے ہو۔پس جنہوں نے ہجرت کی اور انہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا اور میری راہ میں تکلیف دی گئی اور انہوں نے جب دفاعی جنگیں کیں اور اپنی جانیں خدا کی راہ میں قربان کیں اور مارے گئے۔میں ان کی بدیوں کے اثر کو ان کے جسم سے یقیناً مٹا دوں گا اور میں انہیں یقیناً ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔یہ انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدلہ کے طور پر ملے گا اور اللہ تعالیٰ تو وہ ہے جس کے پاس بہترین جزا ہے۔ان آیات میں ایک لمبا مضمون بیان ہوا ہے لیکن میں نے اس مضمون کا ایک حصہ آج کے خطبہ کے لئے منتخب کیا ہے۔ویسے اس کی بھی شاید تفصیل میں میں نہ جا سکوں کیونکہ صبح سے پیٹ میں تکلیف کی وجہ سے مجھے ضعف کی شکایت ہے۔پہلی بات ان آیات سے ہمیں یہ پتا لگتی ہے کہ آسمان اور زمین کی پیدائش یعنی کائنات کی