خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 85 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 85

خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۵ خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۷۹ء اسلام نے کامل مذہبی آزادی دی ہے خطبه جمعه فرمود ۹۰ / مارچ ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیت تلاوت فرمائی:۔اِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحِبِ الْجَحِيمِ ـ (البقرة : ١٢٠ ) اور پھر حضور انور نے فرمایا:۔اس آیت میں محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخاطب ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، مبعوث کیا ہے بشیر اور نذیر بنا کر اور اصحب الْجَحِيمِ کے متعلق تجھ سے باز پرس نہیں کی جائے گی۔قرآن کریم نے یہاں یہ نہیں کہا کہ کافروں کے متعلق تجھ سے باز پرس نہیں کی جائے گی بلکہ یہ کہا کہ اصحب الْجَحِيمِ کے متعلق تجھ سے باز پرس نہیں ہوگی۔تیری یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ کوئی دوزخ میں جاتا ہے یا نہیں جاتا۔اصحب الْجَحِيمِ کے معنی سمجھنے کے لئے جب ہم قرآن کریم ہی کو دیکھتے ہیں اور وہیں۔ہمیں صحیح معنی پتا لگ سکتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے اصحب الْجَحِيمُ یا اَصْحَبُ النار ، دوزخ کی آگ میں پڑنے والوں کا جہاں ذکر کیا ہے وہاں تین بڑے گروہ ہیں جن کا ذکر