خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page ix of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page ix

VII اُن کے منافع سے وہ کام کئے جائیں گے جن سے یہ منصوبہ چلایا جائے گا۔چلتا رہے گا قیامت تک چلے گا۔اس کے پانچ سال بعد نصرت جہاں آگے بڑھو کا منصوبہ بن گیا۔جو منصو بہ مالی لحاظ سے پچاس ساٹھ لاکھ روپے پاکستانی سے شروع کیا گیا تھا اس کی آمد مغربی افریقہ میں جہاں کے لئے یہ منصوبہ تھا پانچ کروڑ سے اوپر نکل چکی ہے اور مجھے تو قطعا کوئی دلچسپی نہیں اس قسم کے روپے سے۔خدا کا مال ہے اس کی راہ میں خرچ ہونا چاہیے۔اتنی بڑی رقم کا ایک دھیلا بھی ان ممالک سے باہر نہیں نکالا گیا۔یہ مقابلہ ہو گیا قریباً ڈیڑھ دو سو سال پہلے ان ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں عیسائی پادری داخل ہوئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ خداوند یسوع مسیح کی محبت کا پیغام لے کر تمہارے پاس آئے ہیں اور ان کے پیچھے ان ممالک کی فوجیں وہاں داخل ہوئیں اور میں جب ۱۹۷۰ ء میں وہاں گیا ہوں تو میں نے ان سے باتیں کیں اور میں نے اُن سے کہا کہ یہ کہہ کے تو یہ آئے تھے کہ خداوند یسوع مسیح کے پیار کا پیغام تمہارے پاس لے کر آئے ہیں لیکن سارا کچھ ، پنجابی کا محاورہ ہے ”سب کچھ ہونج کے لے گیا سب کچھ لے گئے اور تمہاری کچھ چیز ہی نہیں چھوڑی۔یعنی یہ ایک حقیقت ہے اور ان قوموں کو بھی پتا ہے کہ عیسائیت نے اُن کے ساتھ یہ کچھ کیا ہے۔“ ۱۰۔۱۳ نومبر ۱۹۷۸ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ کے موقع پر مکانوں کی کمی کے مسئلہ اور وشغ مَحانَكَ کے سلسلہ میں فرمایا :۔یہ مسئلہ تو ہم سے قیامت تک حل ہونے والا نہیں۔بہت لمبا عرصہ گزرا جب سے مجھے ہوش آئی ہے اس وقت سے آج تک کسی جلسہ پر بھی میں نے یہ محسوس نہیں کیا کہ ہمیں مکانات کے لحاظ سے کوئی دقت نہیں۔جب میں بطور رضا کا ر کام کر رہا تھا یا کوئی چھوٹی سی ذمہ داری مجھے ملی پھر افسر جلسہ سالانہ کے ماتحت کسی خاص حصے کی ذمہ داری ملی پھر میں نے افسر جلسہ سالانہ کا کام کیا پھر ساری جماعت کی ذمہ داری یعنی خلافت میرے سپرد ہوئی کسی جلسہ پر بھی یہ محسوس نہیں کیا کہ مہمانوں کے لئے مکان کافی ہیں۔یہ تو وعدہ دیا گیا ہے کہ آپ جتنے مرضی مکان بنالیں وہ ناکافی ہیں۔اگر آپ ربوہ شہر کی حدود پھیلاتے پھیلاتے کراچی تک پہنچادیں تب بھی یہ شہر چھوٹا ہی رہے گا کیونکہ وَشِعُ مَحانَكَ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جلسہ سالانہ