خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page x
VIII تمہیں ہر سال ہی وسعت کی طرف توجہ دلاتا رہے گا۔“ ۱۱۔۸ دسمبر ۱۹۷۸ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اطفال الاحمدیہ کو اُن کے مقام کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:۔پس تم جو اطفال ہو تمہارے اوپر تو ہمیں بڑا حسن ظن ہے۔تمہارے ساتھ بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔بالکل چھوٹے بچے اس وقت میرے مخاطب ہیں۔میں علی وجہ البصیرت اس یقین پر ہوں کہ جب انشاء اللہ تم بڑے ہوئے اور تمہارے ذمے جماعت احمدیہ کے کام پڑے تو اس وقت جماعت آج کی تعداد سے بیبیوں گنا زیادہ ہوگی اور ان کی ہدایت کے کام۔ان کو قرآن کریم کی صحیح تعلیم پیش کرنا، ان کو دینی علوم سکھانا، ان کی تربیت کرنا، ان کے لئے نمونہ بننا وغیرہ بڑی ذمہ وار یاں تم پر عائد ہوں گی۔“ ۱۲ ۲۹ / دسمبر ۱۹۷۸ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے جماعت کے عقیدہ کا برملا اعلان کرتے ہوئی فرما یا:۔”ہم اس بات کو لعنت سمجھتے ہیں کہ ہماری زبان یہ کہے کہ ہم مسلمان نہیں اور ہم نے خدا کو چھوڑ دیا ہے اور نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نہیں سمجھتے۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ صداقت اور وہ نور جس سے ہم نے اپنی آنکھوں کا نور لیا اور اس نور سے دنیا کو منور پایا اس نور سے ہم علیحدہ ہو جائیں اور ظلمات میں بھٹکتے رہیں۔یہ ہم ایک لحظہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتے۔مگر انسان کمزور ہے اور خدا تعالیٰ کے سہارے کے بغیر اور اس کے فضل کے بغیر خدا کی رحمتوں اور برکتوں کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔الغرض حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ خطبات جمعہ بھی ہر پہلو سے انسانیت کی ضرورت ہیں۔ان میں خدا تعالیٰ کی خاطر ہر جہت سے ترقیات کے لئے قربانی اور کامل اطاعت کی تیاری کے سامان ہیں۔۱۷/ مارچ ۲۰۰۹ء والسلام سید عبدالحی ناظر اشاعت