خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 71
خطبات ناصر جلد ہفتہ اے خطبہ جمعہ ۱/۸ پریل ۱۹۷۷ ء پورے ہوتے ہیں۔اسی لئے انسان کو خاتمہ بالخیر کی دعا کی تحریک کی گئی ہے۔خَيْرُ وَ اَبھی ہی کے الفاظ کے بعد خدا تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے، تم سمجھتے کیوں نہیں کہ تمہاری پیدائش کی غرض کیا ہے، تم سمجھتے کیوں نہیں کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے وہ اسی مقصد کے حصول کے لئے تمہیں ملا ہے۔قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ خدا نے فرمایا:۔خَيْرٌ وَ ابْقَى لِلَّذِينَ آمَنُوا وَ عَلَى رَبِّهِمُ يَتَوَكَّلُونَ (الشوری: ۳۷) فرمایا خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور اس کی ہدایت کی روشنی میں جو لوگ اپنے اموال کو اور اپنی طاقتوں کو اپنی قوتوں اور استعدادوں کو اور اپنی اخلاقی اور روحانی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے اور خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق خدا دا د قوتوں کی نشو و نما کرتے ہیں وہ عقل سے کام لینے والے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ یعنی انہوں نے اپنی انتہائی کوشش کی خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول میں مگر نتائج کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر چھوڑ دیا۔دراصل ایمان کے معنے عقیدہ کا ایمان اور زبان سے اس کا اقرار اور اس کے مطابق عمل کرنا یہ سب چیزیں لغت عربی کے مطابق لفظ ایمان میں شامل ہیں۔تو جو شخص ایمان لاتا اور مومنانہ زندگی گزارتا ہے اور اس کے دل میں پاکیزگی پائی جاتی ہے اور کھوٹ نہیں اور ملاوٹ نہیں اور نفاق نہیں اور فساد نہیں ہوتا اور اعمال صالحہ بجالاتا ہے اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہی کافی نہیں ، جب تک خدا تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے خاتمہ بالخیر نہ کرے اور اپنے فضل اور رحمت سے جنتوں کے سامان۔نہ پیدا کرے محض اعمال کوئی چیز نہیں۔غرض جب خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کی ترقیات کے لئے آسمانی ہدایت بھیجی جاتی ہے تو دنیا دو گروہوں میں بٹ جاتی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور قرآن کریم جیسی عظیم ہدایت انسان کے ہاتھ میں دی گئی تو آپ کی اس عظمت وشان کے باوجود پھر بھی سارے ہی انسان ایسے نہیں تھے جنہوں نے آپ کو قبول کیا اور قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق زندگیاں گزارنے لگے۔یہ تو بڑا لمبا مضمون ہے جو بڑی وضاحت سے بیان ہوا