خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 72 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 72

خطبات ناصر جلد ہفتم ۷۲ خطبہ جمعہ ۸ ۱۷ پریل ۱۹۷۷ء ہے کہ اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے اور انسان کی کوشش کو قبول کر لیتا ہے یعنی انسان کی بعض چھوٹی چھوٹی کوششیں ہیں جو مقبول ہو کر انسانی مغفرت کا باعث بن جاتی اور اس کی ترقیات کا زینہ ٹھہرتی ہیں اور بعض دفعہ انسان کی ذراذراسی لغزش اسے خدا تعالیٰ کے دربار سے دھتکار کر پرے پھینک دیتی ہے۔یہ ساری باتیں قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں۔قرآن کریم ہمارے لئے کامل ہدایت ہے اس کے بعد ہمیں کسی اور ہدایت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔پس انسانوں کی دو جماعتیں یا دو گروہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ذکر کیا ہے۔ایک وہ گروہ ہے جن کو متاع زندگی اور زینت حیات خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی اور انہوں نے یہ سمجھا کہ گویا وہ اس کے حقدار تھے ، اس دنیا میں مزے لوٹنے کے لئے انہیں یہ چیزیں عطا کی گئی ہیں اور مزہ لوٹنا بھی کیا جس کا انجام تبا ہی ہے۔دنیا کی خوشیاں اور عیش اس دنیا میں بھی انسان کی تباہی کا باعث بنتے ہیں مثلاً جسمانی طاقتیں ہیں۔دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو عارضی لذتوں کی خاطر خداداد طاقتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے اس دنیا کی بقیہ زندگی میں نہایت مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا ان کی صحت ایسی گر جاتی ہے کہ اس دنیوی زندگی کا بھی کوئی لطف ان کے لئے باقی نہیں رہتا۔اس لئے اصل مسرت اور لذت تو وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت کی روشنی یعنی قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہوتی ہے۔وہی سرور حقیقی سرور ہے اس دنیوی زندگی میں بھی اور وہی سرور اُخروی زندگی میں ایک اور شکل میں انسان کے وجود کو اور اس کی روح کو ملے گا لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بعض لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔وہ سوچتے نہیں کہ یہ اتنا بڑا کارخانہ ہے جسے خدا تعالیٰ نے باطل تو نہیں بنایا تھا۔انسانی زندگی کا کوئی مقصد ہونا چاہیے۔اس کی کوئی غرض ہونی چاہیے انسانی پیدائش کا کوئی مقصد ہونا چاہیے۔چنانچہ انسان کو مخاطب کر کے یہ اعلان کر دیا گیا کہ ہر دو جہان کی ہر چیز بلا استثناء اس کی خدمت پر لگا دی گئی ہے۔کتنا بڑا مقام ہے جو انسان کو دیا گیا ہے۔وہ اپنی ماں کے پیٹ سے تو یہ چیزیں لے کر نہیں آتا یہ خدا تعالیٰ کی عطا ہے۔یہ اس کی رحمت ہے حتی کہ اس نے ان ستاروں کو بھی جن کی روشنی ابھی ہم تک نہیں پہنچی انسان کی خدمت پر لگا رکھا ہے۔سائنس سے تعلق رکھنے والے