خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 53
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۳ خطبہ جمعہ ۱۸ / مارچ ۱۹۷۷ء اس رحمت کو دنیا کے سامنے بیان کر کے، اس رحمت کے مطابق عمل کر کے دنیا کو اسلام کی طرف لے کر آئے ، یہ بڑی ذمہ داری ہے۔کوئی بات بھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی معمولی اور غیر اہم نہیں مثلاً یہ عقیدہ جو کہ میں نے شروع میں بیان کیا تھا کہ ایک وقت میں جہنم بھی خالی ہو جائے گی یہ محض ایک فلسفیانہ عقیدہ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے خدا تعالیٰ کی منشاء اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تعلیم لے کر آئے اس کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔وہ اور ہوں گے مذاہب ! جنہوں نے اس حقیقت کو نہیں پہچانا لیکن ایک مسلمان جو قرآن کریم پر غور کرنے والا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے اُسوہ کو اپنی نظر کے سامنے رکھنے والا ہے وہ یہ جانتا ہے کہ یہ صداقتیں بڑے گہرے اثر رکھنے والی ہیں اور ان کے بغیر ہم دنیا کو اس پاک اور مقدس نبی ، اس رَحْمَةٌ لِلعلمین کے جھنڈے تلے جمع نہیں کر سکتے۔پس ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں ، ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں سب کا یہ فرض ہے کہ یہ باتیں دہراتے رہیں۔ذکر کے حکم کے ماتحت ایک دوسرے کو یاد دہانی کرائیں اور ہمارے عالم ان چیزوں کو اپنی تقریروں میں بیان کریں اور ان پر مضمون لکھیں عمل اور جذبہ کے ساتھ۔جہاں تک میرے دل کا جذبہ اور احساس ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر احمدی کا بھی جو یہاں پاکستان میں رہنے والا ہے یہی حال ہوگا۔میں عام طور پر پاکستان میں ہی رہتا ہوں کبھی کبھی دورے پر باہر نکلتا ہوں۔اگر کسی شخص کو افریقہ میں تکلیف پہنچ رہی ہو تو میرے دل میں ویسے ہی دکھ کا احساس پیدا ہوتا ہے جس طرح کہ میرے گھر کے کسی فرد کو تکلیف پہنچے تو ہوتا ہے۔ان میں میں کوئی فرق نہیں محسوس کرتا۔بیرونِ پاکستان سے اپنی تکالیف بیان کر کے ان کے لئے جولوگ دعاؤں کے خطوط لکھتے ہیں ان میں صرف احمدی مسلمان ہی نہیں ہوتے یا صرف دوسرے فرقوں کے مسلمان ہی نہیں ہوتے بلکہ ایک عیسائی بھی کہتا ہے کہ میں عیسائی ہوں مجھے یہ دکھ ہے، میں اس تکلیف میں مبتلا ہوں میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے دکھ کو دور کرے۔چنانچہ میں خدا سے کہتا ہوں کہ اے خدا! نہ میں اسے جانتا ہوں نہ یہ مجھے جانتا ہے پر میری یہ خواہش ہے کہ یہ تجھے پہچان لے اس واسطے تو اس کے دکھ کو دور کرتا کہ اس طرح اس کو معلوم ہو کہ ایک متصرف بالا رادہ