خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 525 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 525

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۲۵ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۷۸ء کہ نو سال کا بچہ میں سال کے جوان سے زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے۔بچے بہت تیز ہیں۔بڑا دو چکر لگاتا ہے تو یہ تین چکر لگا لیتے ہیں اور اگر اس نے ایک تہائی وزن کم اٹھایا ہے تو ایک وقت کے اندر زیادہ چکر لگا کر بڑے کے برابر روٹیاں وہاں پہنچادی ہیں۔پس تم جو اطفال ہو تمہارے او پر تو ہمیں بڑا حسن ظن ہے۔تمہارے ساتھ بڑی امید میں وابستہ ہیں۔بالکل چھوٹے بچے اس وقت میرے مخاطب ہیں۔میں علی وجہ البصیرت اس یقین پر ہوں کہ جب انشاء اللہ تم بڑے ہوئے اور تمہارے ذمے جماعت احمدیہ کے کام پڑے تو اس وقت جماعت آج کی تعداد سے بیسیوں گنا زیادہ ہوگی اور ان کی ہدایت کے کام۔ان کو قرآن کریم کی صحیح تعلیم پیش کرنا، ان کو دینی علوم سکھانا، ان کی تربیت کرنا ، ان کے لئے نمونہ بننا وغیرہ بڑی ذمہ وار یاں تم پر عائد ہوں گی۔کچھ لوگ اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالتے ہیں کچھ نہیں سنبھالتے لیکن جو ذمہ داریاں آج مجموعی طور پر نوجوانوں پر اور بڑوں پر پڑ رہی ہیں اس سے سو گنے زیادہ، دوسو گنے زیادہ بلکہ ہوسکتا ہے کہ خدا کرے ہزار گنے زیادہ ذمہ داریاں ہو جائیں۔جماعت اتنی بڑھ جائے تو آسمانوں سے فرشتوں نے آکر یہ کام نہیں کرنے۔یہ تو تدبیر کا نظام ہے اور آزادی کا نظام ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کہا کہ دیکھ یہ ہدایت کی راہ ہے اور یہ ضلالت کی راہ ہے۔تجھے میں اختیار دیتا ہوں کہ چاہے تو ہدایت کی راہ کو اختیار کر اور چاہے تو ضلالت کی راہ کو اختیار کر لیکن یہ میں بتا دیتا ہوں کہ اگر تو ضلالت کی راہ کو اختیار کرے گا تو خدا تعالیٰ کے غضب کی جہنم تجھے نصیب ہوگی اور اگر ہدایت کی راہ کو اختیار کرے گا تو خدا تعالیٰ کا پیار تجھے ملے گا اور تیرے دل کی کیفیت یہ ہو جائے گی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہاماً بتایا گیا (اس میں مخاطب جماعت ہی ہے ) کہ جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو یہ کیفیت اس شخص کے دل کی ہوتی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ میں سارے کا سارا خدا کا ہو گیا ہوں اور پھر اس دلی کیفیت کے ساتھ وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اس کے دین کے کام کرتا اور