خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 524 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 524

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۲۴ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۷۸ء ہیں کہ جب قادیان میں افسر جلسہ سالانہ کو پندرہ ہیں ہزار مہمانوں کا انتظام کرنا پڑتا تھا اور پچھلے سال کھانے کے لحاظ سے ہی نوے ہزار مہمانوں کا انتظام کرنا پڑا تھا۔چنانچہ جن رضا کاروں کا تعلق لنگر خانوں میں کام کرنے سے ہے یا کھانا تقسیم کرنے سے یا کھانا کھلانے سے یا رہائش گاہوں کی نگرانی اور ان میں مہمان ٹھہرانے سے ہے ان کا کام بہت بڑھ گیا ہے۔اگر ہمارے ذہن میں کسی سال مہمانوں کی تعداد پندرہ ہزار ہو تو اس کے مقابلے میں اب تعداد چھ گنا زیادہ ہوگئی ہے اس لئے چھ گنا زیادہ رضا کار ہمیں ملنے چاہئیں اور اگر ربوہ کے مکینوں کی تعداد رضا کاروں کے لحاظ سے اس زمانے کے مقابلہ میں چھ گنا نہیں بڑھی تو ربوہ کے رضا کاروں کی Efficiency یعنی اہلیت مجموعی طور پر چھ گنا زیادہ ہونی چاہیے ورنہ تو ہم کام نہیں سمیٹ سکتے۔پس آپ پر دو جہتوں سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ایک تو یہ کہ تعداد کے لحاظ سے کمی نہ ہو اور دوسرے یہ کہ اگر تعداد پوری کرنی ممکن ہی نہ ہو، اگر ربوہ کے مکینوں کی تعداد اتنی نہیں بڑھی جتنے خدا کے فضل سے جلسہ پر آنے والے مہمان بڑھ گئے ہیں تو پھر تم یہ کوشش کرو کہ تمہارے کام کی کیفیت اور Efficiency مجموعی طور پر چھ گنا زیادہ ہو جائے کیونکہ اس وقت جتنی رضا کاروں کی مجموعی اہلیت تھی اس سے چھ گنا زیادہ تمہاری مجموعی کارکردگی ہو تو تب تم کام سنبھال سکتے ہو۔جلسہ سالانہ پر کام کے لحاظ سے چھوٹے بچے دو طرح کے ہیں۔ایک تو وہ چھوٹے بچے ہیں جن کو کام کرنے کی بہت خواہش ہوتی ہے مگر ابھی ان کی عمر نہیں ہے۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو لمبی عمریں دے اور ان کی یہ خواہش بھی پوری ہو کہ وہ جلسہ سالانہ کے کام میں عملاً تند ہی کے ساتھ حصہ لینے والے بنیں اور ایک وہ چھوٹے بچے ہیں جو بڑی مستعدی سے کام کر سکتے ہیں۔اب تو کچھ بڑے بھی لگا لئے جاتے ہیں لیکن قادیان میں بعض کاموں میں خدام کی عمر کے نوجوان نہیں لگائے جاتے تھے۔مثلاً تنوروں سے روٹیاں تقسیم کرنے والی جگہ تک پہنچانے کے لئے بڑے آدمی کی ضرورت نہیں۔چھوٹا بچہ یہ کام کر سکتا ہے۔وہ بڑے جتنا وزن نہیں اٹھا سکتا لیکن بڑے سے زیادہ چکر لگا سکتا ہے اور اس سے زیادہ تیز ہے۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے