خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 492
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۹۲ خطبه جمعه ۳/ نومبر ۱۹۷۸ء دعا ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ بس اب اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں بلکہ جتنی دعا کریں اتنی ہی کم ہے اور جتنے انعام اس کے بدلے میں آپ خدا سے پائیں اور اس کی برکات حاصل کریں اور اس کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں اور اس کے فضل آپ کو ملیں وہ بھی کم ہیں، اس سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔یہ تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اے اللہ ! تیرے فضل کافی ہو گئے اب ہمیں اور فضلوں کی ضرورت نہیں۔آپ کے دماغ میں کبھی ایسا خیال آیا ہے؟ سوائے پاگل کے کسی کے دماغ میں ایسا خیال نہیں آسکتا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے صاحب شریعت نبی جو تمام بنی اسرائیل کے لئے آئے تھے اور بڑا لمبازمانہ آپ کی شریعت کا رہا انہوں نے بھی دعا کی تھی کہ رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص:۲۵) کہ تیری طرف سے جو خیر آئے میں ہمیشہ ہی اس کا محتاج اور فقیر رہوں گا اور یہی ایک حقیقت ہے۔پس خیر اور برکت اور فضل اور رحمت اور خدا تعالیٰ کے نعماء کے حصول کے ذرائع کو اختیار کرو تا کہ تمہارے گھر اور تمہاری جھولیاں اور تمہارے سینے اور تمہارے دماغ اور تمہاری نسلیں خدا تعالیٰ کے نور سے بھر جائیں اور ان کے آگے اور ان کے دائیں ان کا نور چلے اور اتنا نور ہو جائے کہ وہ اس قابل ہو جائیں کہ وہ دنیا کی ہدایت کا سامان پیدا کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔آمین۔روزنامه الفضل ربوہ ۱۷ار دسمبر ۱۹۷۸ء صفحه ۲ تا ۵)