خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 491
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۹۱ خطبه جمعه ۳/ نومبر ۱۹۷۸ء کہ بعض دفعہ جلسہ رو کا بھی گیا اور مختلف حوادث زمانہ سے بھی رکا ، حالات سے بھی رکا، پارٹیشن کی وجہ سے بھی ایک جلسہ رکا لیکن جماعت احمد یہ ایک عجیب قوم ہے میں نے تو کبھی رہائش کی فکر نہیں کی۔میں نے کہا کہ اگر کوئی ایسا موقع آیا تو ہم اپنے گھر چھوڑ کر مسجد میں آجائیں گے اور اپنے گھر جلسہ کو دے دیں گے کہ ان میں مہمان ٹھہرادو اور اگر ایسی ضرورت پڑی تو ہم باہر ٹھہر جائیں گے۔اگر دنیا کے نوجوان فوجی تربیت لینے والے سخت سردی میں کمبلوں میں آسمان کے نیچے اس سے زیادہ راتیں گزار سکتے ہیں جتنی ہمارے جلسے کی ہیں تو ہم بھی گزار سکتے ہیں۔کوئی ایسی بات نہیں اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرنے والا ہے۔بہر حال باوجود اس کے کہ میں یہ جانتا ہوں کہ جلسہ سالانہ پر ربوہ کا کوئی مکان بھی ایسا نہیں ہوتا جس میں مہمان نہ ٹھہر تے ہوں۔پھر بھی میں آپ سے کہتا ہوں کہ جن کے کوئی دوست واقف اور رشتہ دار یہاں نہیں ہیں ان کے لئے بھی آپ کے دلوں میں محبت ہے اور ان کے دلوں میں بھی آپ کے لئے محبت ہے۔ان کے آرام کے لئے ایک کمرہ یا دو کمرے، چھوٹا کمرہ یا بڑا کمرہ جتنے آپ دے سکتے ہیں وہ جلسہ کے انتظام کو دے دیں تا کہ ایسے لوگ جو اپنے طور پر انتظام نہیں کر سکتے اور وہ ہماری عام قیام گاہوں میں نہیں ٹھہر سکتے ان کی رہائش کا بھی انتظام کیا جا سکے۔جلسہ پر بعض ایسے خاندان آتے ہیں جو جماعتی قیام گاہوں میں نہیں ٹھہر سکتے۔مثلاً ضلع لاہور ٹھہرا ہوا ہے یا ضلع ساہیوال ٹھہرا ہوا ہے اور یا ضلع راولپنڈی ٹھہرا ہوا ہے یا جماعتی قیام گاہوں میں جگہ نہیں رہتی ان کو ہمیں باہر ٹھہرانا پڑتا ہے اور ان کے لئے یہ ضرورت ہے۔آپ کو یہ کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کے نفوس اور اموال میں اور جن مکانوں میں آپ کی رہائش ہوگی ان میں برکت ڈالے گا تو اپنے مکانوں میں برکت ڈالنے کے لئے جن قربانیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ آپ پیش کریں تا کہ آپ کے مکانوں میں بھی پہلے سے زیادہ برکتیں ہوں اور آپ کے مکانوں میں جو آپ کے بچے رہنے والے ہیں ان کے دل بھی صاف اور پاک اور مطہر بنیں۔پس جلسہ آ رہا ہے جتنی ذمہ داریاں اہلِ ربوہ کی یا باہر والوں کی ہیں وہ ادا کریں اور ہمارا اصل بھر وسہ ہمارے رب پر ہے۔پس دعائیں کریں، بہت دعائیں کریں، بہت دعائیں کریں۔