خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 461 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 461

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۶۱ خطبه جمعه ۲۰/اکتوبر ۱۹۷۸ء مقابلہ میں امتیاز پیدا کر دیا۔مرکز نے بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے اخراجات کا بوجھ اٹھایا۔صرف تحریک جدید ہی نہیں جماعت احمدیہ کی نوے سالہ زندگی میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ مرکز کو ضرورت پڑی ہو باہر سے روپیہ لینے کی یا باہر سے ہمارے پاس ایک دھیلا ہی آیا ہو۔۱۹۷۴ء کے حالات ایسے تھے کہ بیرونی ممالک کی بہت سی جماعتوں نے مجھے لکھا کہ ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں، آپ ہمیں اجازت دیں ہم اپنے بھائیوں کی خبر گیری میں بھی شامل ہوں اور ان کے لئے پیسے اکٹھے کر کے مرکز کو بھجوائیں۔میں نے کہا نہیں۔جماعت ہائے احمد یہ مرکز یہ خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں گی ان کو تمہاری مالی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھتے ہوئے اور جماعت ہائے احمد یہ مرکزیہ کے لئے غیرت رکھتے ہوئے میں نے ان کو یہ جواب دیا تھا۔خدا تعالیٰ نے فضل کیا۔بہت سے لوگوں کو یہ پتا نہیں ہے کہ اس وقت جماعت نے کتنا خرچ کیا تھا۔صرف ان لوگوں پر جو ان دنوں پریشان حال ربوہ میں اکٹھے ہو گئے تھے یا ان کا کچھ حصہ اپنے رشتہ داروں کے پاس چلا گیا تھا ان کے کھانے پینے کا انتظام مرکز کو کرنا پڑا جس پر تیرہ چودہ لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے لیکن ایسے احباب کو غذائی ضروریات بہم پہنچانے کے لئے آپ نے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا یا اور نہ آپ کی خاطر میں نے کسی کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلا یا۔اللہ تعالیٰ جو علام الغیوب ہے اس نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ یہاں بھی میں نے کوئی تحریک نہیں کی تھی کہ جماعت پر اتنا بار پڑ گیا ہے جو لوگ مالدار ہیں جن کو نقصان نہیں پہنچا وہ اس غرض کے لئے پیسے دیں۔غرض کوئی تحریک نہیں کی اور کسی کو پتا بھی نہیں لگا اور خدا تعالیٰ کے فضلوں نے جماعت کو جس کے متعلق لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ ختم ہوگئی خدا کے فرشتوں نے اسے اٹھا کر کہیں سے کہیں پہنچادیا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے جس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔پس تحریک جدید پر غور کرتے ہوئے یہ چیز نمایاں طور پر میرے سامنے آئی اور اس کا میں غم اس وقت ذکر کر رہا ہوں اور میں اس بات کا اظہار کرنا چاہتا تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنیں۔تحریک جدید کے اجرا کے بعد دنیا میں بڑی عظیم تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کی حقیر کوشش کو غیر معمولی طور پر نوازا۔آخر ایک لاکھ کی حیثیت ہی کیا ہے۔میرے خیال میں