خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 448 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 448

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۴۸ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء اخبارات نے کچھ نہیں لکھا۔بعض لوگوں نے اسے محسوس بھی کیا لیکن ہمیں اس سے کیا کہ کوئی لکھتا ہے یا نہیں ہم نے تو اسلام کی صداقت کے اظہار کے لئے تدبیر کرنی ہے اور اس کے نتائج نکالنا نہ میرا نہ تیرا کسی کا کام نہیں۔خدا تعالیٰ بغیر ہماری تدبیر کے بھی نتائج نکالتا ہے۔خدا تعالیٰ کا اس زمانے میں یہ منصوبہ ہے کہ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرے گا ہم تو ثواب حاصل کرنے کے لئے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی غریبانہ طاقت کے مطابق کوئی کام کر دیتے ہیں اور وہ اپنے فضل سے اسے قبول بھی کرتا ہے اور نتائج بھی نکالتا ہے لیکن لندن کے علاوہ انگلستان کے اخباروں نے چار چار صفحے بھی لکھے، سپلیمنٹ نکالے، چھوٹے نوٹ بھی لکھے۔نیز باہر والوں نے بھی نوٹ لکھے۔وہاں انگریزوں کی ایک ایجنسی ہے جس کا کام اخبارات وغیرہ میں خبریں شائع کرانا اور اعداد ا کٹھے کرنا ہے۔ان کی رپورٹ یہ تھی کہ اس وقت تک ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے چودہ کروڑ انسانوں تک وہ آواز پہنچ چکی ہے جو ہم پہنچانا چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا ہے اور اس میں وہ اخبار شامل نہیں ہیں جو مثلاً افریقہ میں چھپے اور جن کے تراشے ہمارے پاس پہنچ چکے ہیں۔نائیجیریا میں عیسائیوں کے ایک اخبار نے چار صفحے کا ضمیمہ دیا۔اسی طرح ساؤتھ امریکہ کے ایک اخبار میں بھی نوٹ شائع ہوا ہے جس کی خبر ابھی صرف ایک شخص کو آئی ہے۔ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس کا تراشہ بھی مل جائے اسی طرح جاپان کے کئی اخباروں نے نوٹ دیئے اور ان میں خط و کتابت بھی شائع ہوئی۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے چھوٹی سی جماعت ہے ہماری تو کوئی طاقت ہی نہیں۔لا فخر ہی ہے اپنی طاقت پر گھمنڈ نہیں۔جب لندن میں یہ بات ہوئی تو عطاء المجیب صاحب نے جو جاپان میں ہمارے مبلغ ہیں اخبار میں یہ ساری تفصیل دے دی کہ انہوں نے دعوت دی اور یہ جواب ہے اور ہمارے عقائد یہ ہیں کہ مسیح صلیب سے زندہ اتارے گئے تھے اور مرہم عیسی کا بھی ذکر کیا۔یعنی اس پر اپنا ایک چھوٹا سا نوٹ دے دیا۔بعد میں کسی نے اس کی تائید میں بھی لکھا لیکن بہت سے لوگوں نے غصے میں لکھا کہ غلط عقائد ہیں اور تم شائع کر رہے ہو۔اخبار کے اندر اچھی خاصی بحث شروع ہوگئی۔پہلے ان کا خط شائع ہوا پھر اس کا جواب دیا