خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 419
خطبات ناصر جلد ہفتم خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء لئے بڑا پیار تھا میں نے اس کو پندرہ بیس منٹ تک سمجھایا کہ اپنی جان پر ظلم نہ کرو۔خدا تعالیٰ بڑی غیرت رکھتا ہے جماعت احمدیہ اور اس کے اداروں کے لئے تمہیں سزامل جائے گی۔خیر وہ سمجھ گیا اور چلا گیا۔پھر انہوں نے بھڑ کا یا پھر میرے پاس آ گیا پھر میں نے سمجھایا پھر چلا گیا۔پھر تیسری دفعہ جب آیا تو میں نے سمجھا اس کے باپ کو ٹھوکر نہ لگ جائے۔میں نے کہا ٹھیک ہے میں دستخط کر دیتا ہوں مگر تمہیں یہ بتا دیتا ہوں کہ یہ لڑکا جس کے متعلق تم یہ خواب دیکھ رہے ہو کہ وہ سپیرئر سروسز کے امتحان میں پاس ہو کر ڈی سی بنے گا یہ ایف اے بھی نہیں پاس کر سکے گا۔اس نے مائیگریشن فارم پر کیا ہوا تھا اتنے اچھے نمبر تھے کہ ٹی آئی کالج سے گورنمنٹ کالج اسے بڑی خوشی سے لے لیتا۔چنانچہ میں نے اس کے فارم پر دستخط کئے اور وہ اسے لے کر چلے گئے۔پھر مجھے شرم کے مارے ملا بھی نہیں۔کوئی چار پانچ سال کے بعد مجھے ایک خط آیا جو شروع یہاں سے ہوتا تھا کہ میں آپ کو اپنا تعارف کروا دوں۔میں وہ لڑکا ہوں جس کے مائیگریشن فارم پر آپ نے دستخط کئے تو مجھے اور میرے باپ سے کہا تھا کہ میں ایف اے بھی نہیں پاس کرسکوں گا اور چار پانچ سال کا زمانہ ہو گیا ہے اور میں واقعی ایف اے پاس نہیں کر سکا۔پھر وہ تجارت میں لگ گیا اب پھر مجھے یہاں ایک خط آیا جو اسی سفر میں ملا جو اس کے بیٹے کا تھا اور اس نے بھی تعارف یہ کہہ کر کروایا کہ میں اس کا بیٹا ہوں جس کو آپ نے یہ کہا تھا کہ تو ایف اے پاس نہیں کر سکے گا۔پس خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کے ایک کالج اور اس کے ایک پرنسپل کے لئے اتنی غیرت دکھاتا ہے تو خلیفہ وقت کے لئے کتنی غیرت دکھائے گا۔آپ پڑھے لکھے لوگ ہیں ہمارے ایک زمیندار پرانے احمدی ہیں مجھے دو تین دفعہ انہوں نے کہا کہ میں تو اپنے بچوں کو سمجھا تا ہوں کہ دیکھو! نبوت کے زمانہ میں میں نے دیکھا اگر کوئی غلطی ہو تو معاف ہو جاتی ہے لیکن جو خلافت کے خلاف کھڑا ہوتا ہے اسے میں نے ہمیشہ گرتے ہی دیکھا ہے پنپتے نہیں دیکھا۔پھر لوگوں کی عجیب عجیب حرکتیں سامنے آتی ہیں وہ دنیا کی خاطر شریعت اسلامیہ بنانے لگ جاتے ہیں۔قرآن کریم میں بعض احکام تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں اور بعض اصول بیان کر دیئے گئے ہیں۔مثلاً فرمایا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشورى: ۴۱)