خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 420 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 420

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۲۰ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن کریم کی شان دیکھو کسی عیسائی نے اعتراض کیا تھا کہ ایک طرف تفصیل بیان کر دی اور دوسری طرف یہ کہہ دیا کہ جتنا جرم ہو اس کے مطابق سزا ملے گی۔آپ نے فرمایا اگر کوئی اندھا کسی کی آنکھ نکال دے تو تم اس کا بدلہ کس طرح لو گے اگر یہ ہوتا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ تو آنکھ ہے ہی نہیں جس سے آپ نے بدلہ لینا ہے اس لئے فرما یا جزوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا - بعض بنیادی چیزیں ہیں۔آیت استخلاف میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ دین جس پر میں تمہارے لئے راضی ہوا۔دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمُ (النَّور : ۵۶) اس کو مضبوطی کے ساتھ قائم کرنے کا ذریعہ خلافت کو بناؤں گا اور تمہارے خوف کو خلافت کی برکتیں دور کریں گی۔میرا اصل مضمون اس وقت دعا کا ہے یہ باتیں میں ضمناً بتا رہا ہوں۔سینکڑوں بعض دفعہ ہزاروں سال کے اندر ایسی پریشانیاں ہیں کہ جو خلیفہ وقت کی دعاؤں سے معجزانہ طور پر دور ہو جاتی ہیں۔کئی ایک کا میں ذکر کر چکا ہوں۔پریشانیاں آتی رہتی ہیں میں تو خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ ہوں۔وَلَا فَخْرَ۔میرے لئے تو فخر کی بات نہیں خدا تعالیٰ میرے ذریعہ مومنین کی جماعت کے خوف کو بدلتا ہے تو یہ اس کی شان ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی خدا تعالیٰ نے آپ کی اُمت میں اس قسم کے سامان پیدا کر دیئے۔میں تو خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ ہوں میں یاد بھی نہیں رکھتا میں نے ایسے کوئی رجسٹر بھی نہیں بنائے ہوئے میں بھول جاتا ہوں۔کئی دفعہ لوگ آکر بتاتے ہیں کہ جی آپ نے اپنی فلاں خواب بتائی تھی اور وہ پوری ہو گئی ہے اور مجھے وہ خواب یا د بھی نہیں ہوتی۔میری یہ عادت ہے۔میرے ساتھ خدا کا یہ سلوک ہے میں کہا کرتا ہوں کہ میں پانی کے کنارے کھڑا ہوں مجھے سٹور کرنے کی ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ مجھے دیئے چلے جاتا ہے اس قسم کے نشان بھی دکھلاتا ہے اور بڑی کثرت کے ساتھ دکھلاتا ہے۔یه مسئله دوست اچھی طرح سے یادر کھیں کہ تمکین دین یعنی وہ دین جسے خدا تعالیٰ نے اُمت مسلمہ کے لئے پسند کیا اس کو مستحکم طور پر قائم کرنا یہ خلافت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے اور یہ ایک بنیادی اصول ہے اور اس کے مقابلہ میں جزئیات نہیں پیش کی جاسکتیں۔مثلاً حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی