خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 315 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 315

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۱۵ خطبہ جمعہ ۳۰؍ دسمبر ۱۹۷۷ء صدرانجمن احمد یہ کو چاہیے کہ وہ ابھی سے غور کرے کہ آئندہ سال زنانہ جلسہ گاہ کس جگہ رکھی جائے گی تا کہ ہماری بہنوں کو تکلیف نہ ہو۔اس دفعہ ہمیں چوتھا لنگر خانہ کھولنا پڑا۔میں کئی سال تک لنگر کا کام کرتا رہا ہوں۔میرا تجربہ یہ ہے کہ اگر اس نے ٹھیک طرح سے کام کرنا ہے تو ایک لنگر پر بیس پچیس ہزار سے زیادہ مہمانوں کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ہمیں پچیس ہزار کس کا کھانا ، روٹی بھی اور سالن بھی ، اس میں پکا یا جائے تو کوئی تکلیف نہیں ہوتی آرام سے سارا کام ہو جاتا ہے۔لنگر خانہ نمبر ایک جو دارالصدر میں ہے اس پر تئیس ہزار کس کا بوجھ پڑتا ہے۔اس حلقہ میں شاید زیادہ آدمی ٹھہر تے ہیں مجھے خیال آیا تھا کہ اس کے ایک حصے میں بھی ایک چھوٹا سالنگر اور بنادیا جائے۔بہر حال اس دفعہ ہم نے چوتھالنگر بنایا ہے مجبوری تھی۔منتظمین نے کہا کہ اس کی ضرورت ہے۔میں نے ان کو اجازت دی کہ ٹھیک ہے بناؤ۔خیال یہ تھا کہ وہاں سوئی گیس آجائے گی اور روٹی پکانے میں بہت سہولت ہو جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں بیدار اور ہوشیار اور اپنی طرف مائل رکھنا چاہتا ہے اس لئے سوئی گیس وہاں نہیں آئی جن لوگوں کی کوششوں کے نتیجہ میں سوئی گیس ہمیں نہیں ملی ہم ان کے بھی ممنون ہیں کہ ان کی ان کوششوں کے نتیجہ میں ہمیں اس سلسلہ میں مزید دعائیں کرنے کا موقع مل گیا اور ہم اس سلسلہ میں بھی پہلے سے زیادہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے ہم نے مانگا اور اس کا ہم نے دامن پکڑا اور کہا کہ اے ہمارے رب یہ تیرا سلسلہ ہے اور تیرے کام ہیں ہم تو تیرے نالائق مزدور ہی ہیں۔تو خدا اپنے مہمانوں کی بہتری کا انتظام کر دے۔بہتری کا انتظام دو طرح سے ہوتا ہے۔ایک تو مادی سہولتوں کے ذریعہ سے اور دوسرے قلبی اطمینان کے ذریعہ سے۔جن دنوں نانبائی تنوروں میں روٹی پکا یا کرتے تھے اس زمانہ میں ایک دفعہ وہ آپس میں لڑ پڑے اور ان کے دو دھڑے بن گئے اور لڑائی کی وجہ سے انہوں نے سٹرائیک کر دی اور کچھ عرصہ کے لئے روٹی نہیں پکائی۔صبح کی نماز سے پہلے افسر جلسہ سالانہ نے مجھے اس کی اطلاع کر دی۔میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ خلیفہ وقت اور جماعت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔چنانچہ میں نے فجر کی نماز پر دوستوں سے کہا کہ یہ واقعہ ہو گیا ہے اور آج جلسہ ہے۔